aunty g

[#آنٹی  #صفحہ_1

‎یہ تب کی بات ہے جب میں نیا ینا جوان ہوا تھا اور میٹرک کا امتہان دے کر فارغ ہوا تھا میں فریش تو
‎تھا پر تب تک بہت ساری چوتوں کا مزہ لے
‎چکا تھا اور مُٹھ تو روزانہ کا کام تھا ھی- امتہان کے فوراً بعد میرے کزن کی شادی آ گیء تھی اور ھم مہ فیملی گاوءں چلے گۓ – اور وہاں شادی پر خوب ھلہ گلا کیا – گاؤں میں میرے انکل زمان بھی اپنی فیملی کے ساتھ لا ہور سے گاؤں آۓ ھوۓ تھے – اور اُن کا لڑکا آصف میرا ہم عمر تھا اور وہ بھی میری طرح فری تھا-چنانچہ شادی کے ھلے گلے میں اُ س نے پوری طرح میرا ساتھ دیا – جس کا رزلٹ یہ نکلا کہ شادی کے اختتام تک ھم بڑے اچھے دوست بن چکے تھے چنانچہ شادی کے بعد اس نے اور اُس کے ساتھ ساتھ زمان انکل اور اُن کی بیگم ندا آنٹی نے بھی مجھے اپنے ساتھ لاہور چلنے کی آفر کی اور بولے تم آج کل فری چلو تم کو لاہور کی سیر کرواتے ھیں کچھ ہچکچاہٹ کے
‎بعد میں اس شرط پر راضی ہوا کہ گھر والوں سے اجازت آپ لیں گے اور یہ کام اُنہوں نے بڑی آسانی کر لیا – اور اس طرع میں شادی کے فوراً بعد ان کے
‎ساتھ لاہور چلا گیا
‎اسی دن صبع کو ہم گاوں سے چلے تو رات کو ہم لاہور پہنچ گۓ ان کا گھر کافی اچھا خوب صورت اور دو منزلہ تھا جہاں انکل اور آنٹی گھر کے گراءونڈ فلور پر رہتے تھے جبکہ آصف اوراس کی بڑی بہن آسیہ گھر کے فرسٹ فلور پر رہتے تھے – میں نے وھاں خوب انجواۓ کیا اور انہوں نے تھوڑے ھی
‎دنوں میں مجھے لاہور کی کافی سیر بھی کروا دی۔
‎ایک دن با توں باتوں میں آصف بولا یار پتہ نہیں کیوں آج صبع سے ہی مجھے دادا دادی بڑے یاد آ ر رہے ھیں اس پر آسیہ بولی یار آصف تم نے تو میرے منہ کی بات چھین لی ہے قسم سے میرا بھی بڑا جی کر رہا تھا ان سے
‎ملنے کو اور پھر بیٹھے بیٹھے ان دونوں کا وہاں جانے کا پروگرام بن گیا- اسی دوران ان کو میرا بھی خیال آ گیا اور انہوں نے مجھے بھی ساتھ
‎چلنے کو کہا لیکن پتہ نہیں کیوں میرا وھاں جانے کا مُوڈ نہ بنا سو میں نے ان کے ساتھ وہاں جانے سے صاف انکار کر دیا – تب آصف نے مجھ سے پوچھا کے ھمارے
‎جانے کے بحد تم اُوپر اکیلے سو جاوء گے ؟ تو میں نے جواب دیا کہ میں
‎اکیلا نہیں سو سکتا کہ اکیلے میں مجھے ڈر لگتا ھے اس پر ںدا آنٹی
‎بولی کوئ بات نہیں اگر تم کو ڈر لگتا ھے تو تم ھمارے ساتھ والے رُوم میں
‎سو جانا
‎سو اس طرح اُس رات میں آنٹی کے ساتھ والے روم میں سویا ۔
‎اس کمرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کمرے اور آنٹی کے کمرے کا باتھ روم مشترکہ تھا- اب میں آپ کو ندا آنٹی کا تھوڑا سا تعارف کروا تا ہوں ۔ ندا آنٹی گورے رنگ کی ایک بھرے بھرے جسم کی مالک خاتون تھئ قد اچھا تھا اور گانڈ اور ممے بہت بڑے تھے- غرض یہ کہ آنٹی ایک چلتی پھرتی قیامت تھی لیکن اس سے قبل نا انہوں نے نا میں نے کھبی ایک دوسرے کو ایسی نطروں سے دیکھا تھا پر وہ دیکھنے میں مجھے ہمیشہ ہی بڑی اچھی لگتی تھی خاص کر ان کی موٹی گانڈ پر میں دل و جان سے فدا تھا ۔۔وہ بھی دل ہی دل میں ورنہ ان کے سامنے ایسی کوئ بات نہ تھی – ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ آدھی رات کا وقت تھا کہ مجھے بڑے زور سے پیشاب کی حاجت محسوس ہوئ اور میری آنکھ کھل گئ اور
‎میں اس پریشر کو ریلز کرنے کے لیۓ فوری طور پر واش روم چلا گیا اور
‎جیسے ھی میں واش روم میں داخل ھوا مجھے آنٹی کے روم سے پلنگ کی
‎چرچراہٹ اور سسکیوں کی مخصوص آوازیں سنائ دیں ان آوازوں سے میری
‎بڑی اچھی شناسائ تھی اور میں سمجھ گیا کہ اندر آنٹی انکل کا چودائ سین چل رہا ہے چنانچہ جیسے ہی میرے کانوں نے یہ آوازیں سنی
‎میں پیشاب کرنا بھول گیا اور اگلے ہی لمحے میں ان کی چودائ کا منظر دیکھنے کے
‎لیۓ ان کے روم کی طرف بڑھا اور جیسے ھی میں نے آنٹی کے روم کے
‎دروازہ پر ھاتھ رکھا تو خوش قسمتی سے وہ تھوڑا سا کھلا ھوا تھا ۔
[11/3, 4:13 PM] +92 317 6162559: #آنٹی 2
#صفحہ_2
‎اندر کا منظر دیکھ کر میرا جی خوش ھو گیا کہ منطر ھی بڑا دلکش تھا ندا
‎آنٹی فل ننگی پلنگ پر لیٹی تھی اور اس کےاوپر انکل زمان چڑھے ھوۓ تھے اور وہ آنٹی
‎کے موٹے موٹے ممے چوس رہے تھے اور ساتھ ساتھ ان کی ایک انگلی آنٹی کی چوت میں بھی
‎گھوم رہی تھی کچھ دیر بعد انہوں نے آنٹی کا نپل اپنے منہ سے باہر
‎نکلا اور انھوں نے آنٹی کے موٹے ممے اپنے دونوں ھاتھوں میں
‎پکڑ لیۓ اور انکو زور زور سے پریس کرنے لگے - اس کے ساتھ ھی آنٹی نے اور اونچی آوازوں
‎میں کراہنا شروع کر دیا آہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔زور سے
‎دباؤ نا میری جان ۔۔۔۔۔۔۔۔مزہ آ۔۔۔رہا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورآنٹی کی یہ مست آوازہں سن کر انکل مزید
‎زور سے آنٹی کے ممے دبانے لگے ۔۔۔
‎کچھ دیر تک انکل ایسے ھی کرتے رہے پھر وہ اٹھے اور پلنگ پر لیٹ کر بولے
‎” “ندا اب تم میرا لن چوسو” جون ہی انکل پلنگ پر لیٹے تو میری نطر ان کے لن پر پڑی ۔۔۔سوری اسے لن کہنا لن سے مزاق تھا انکل کی تو چھوٹی سی للی تھی ۔۔پتلی اور باریک سی جسے وہ آنٹی کو منہ میں لینے کو کہ رہے تھے “ پر انٹی نے ان کا لن چوسنے سے انکار کر
‎دیا اور بولی ” نہیں جانو اس طرح آپ جلدی چھوٹ جاؤ گے" اس پر انکل بڑی لجا جت سے بولے پلیز
‎ڈارلینگ میرا بڑا دل کر رھا ھے کہ تم میرا لن اپنے منہ میں ڈالو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آخر کار
‎انکل کے بے حد اصرار پر آنٹئ ان کے پاس جا کر بیٹھ گئ اور انہوں نے انکل کا لن اپنے ھاتھ میں پکڑا اور برا سا منہ بنا کر مُٹھ مارنے لگی یہ دیکھ کر
‎انکل بولے ۔۔۔۔ندا۔۔۔۔۔۔مُٹھ نہیں پلیز ۔۔۔۔ منہ میں ڈالو نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب چار و ناچار ندا آنٹی اپنا منہ انکل کے لن پر لے گیء اور زبان نکال کر ٹوپے پر پھیرنے لگی ۔۔۔۔جب آنٹی نیچے جھکی تو میری نطر ان کی گانڈ پر پڑی۔۔۔۔واہ۔۔۔کیا مست گانڈ تھی اسے دیکھتے ھی میرا لن بری طرح سے کھڑا ہو گیا-پھر انٹی نے انکل کا پورا لن منہ میں ڈال لیا اور اسے اچھی طرح چوسنے لگی جیسے ھی آنٹی نے انکل کا ننھا سا لن پورا منہ میں لیا میرے بڑے سے لن نے مجھ سے فریاد کی اور بولا ۔۔ میرا بھی کچھ کر سا لے ۔۔۔۔پر میں اس کا کیا کر سکتا تھا۔۔؟؟؟ سواۓ ھاتھ میں پکڑ کر مسلنے کے۔۔۔۔سو وہ میں نے کیا اور لن کو ھاتھ میں پکڑ کر دبانے لگا ۔ اُدھر انکل اپنے لن پر آنٹی کے نرم ہونٹ محسوس کر کے مستی سے کراہ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔ ندا تم بہت اچھا لن چوستی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔اُف ف ف۔ف۔ف۔ف۔ف۔۔۔۔۔میری جان مزہ آ گیا- بلا شبہ آنٹی کا لن چوسنے کا انداز بڑا ھی زبردست تھا جسے دیکھ کر میں اور بھی گرم ہو گیا ۔۔۔اور۔۔۔لن۔۔۔مت پوچھو دوستو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لن تو اتنا ۔۔بس ۔۔اتنا مست ہو گیا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔ اور اتنا اکڑ گیا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے لن میں درد ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔او ر میں سوچ رہا تھا کہ آنٹی کتنا زبردست لن چوستی ھے اُ ن کو لن چوستے دیکھ کر میرا یہ حال ہو رہا ھے تو انکل کی حالت کیا ہو گی؟؟؟
‎۔۔۔۔۔ آنٹی ایسے ھی 2،333 منٹ تک انکل کا لن چوستی ر ہی ۔"۔۔۔۔اور پھر اچانک انہوں نے اپنا منہ لن سے ھٹایا اور بولی" بس" اس سے زیادہ میں نہیں چوسوں گی تو انکل بولے تھوڑا سا اور چوسو کہ بڑا مزہ آ رہا تھا ۔۔۔۔لیکن آنٹی نہ مانی۔۔۔ اور پلنگ پر لیٹ گئ اور بولی بڑی ادا سے بولی ۔۔۔۔۔۔ . مجھے ۔چودو نا۔۔۔ جان۔
‎یہ سُن کر انکل بیڈ سے اٹھے اور آنٹی کی ٹانگوں کے درمیان آ گے اور آنٹی سے بولے ایک دفح اور چوس لیتی تو کیا بات تھی ۔۔پر آنٹی نے ان کی یس بات کا کوئ جواب نہ دیا بس ٹانگوں کو تھوڑا اٹھا دیا یہ یو با ت کا سگنل تھا کہ اندر ڈال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب انکل نے اپنے لن پر تھوڑا سا تُھوک لگایا اور آنٹی کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ کر ھلکا سا دھکا لگایا اور آئ تھنک لن انٹی کی چوت میں اتر گیا تھا ۔۔۔۔
[11/3, 4:13 PM] +92 317 6162559: #آنٹی 3
#صفحہ_3
۔کیونکہ میں نے آنٹی کی ہلکی سی کراہ سنی تھی وہ کہ رہی تھی ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔آہ میری جان زور سے دھکا مار نا۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر انکل نے اپنے دھکوں کی رفتار تیز کر دی اور زور زور سے لن کو آنٹی کی چوت میں اندر باہر کرنے لگے۔۔۔۔ اور پھر 7،8 دھکوں کے بحد ہی انکل ایک دم چیخے۔۔۔۔۔۔۔۔آو۔۔آو۔۔و۔۔و۔و۔وو۔و۔و۔۔و۔۔۔ ان کی یہ اواز سنتے ھی آنٹی ان کے نیچے سے چلائ ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔پلیز۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔ ابھی نھیں ۔۔۔۔۔ زمان مجھے اور لن چایۓ ۔۔۔۔ میں نے ابھی اور چدوانا ھے ابھی تو میری پھدی گرم ہوئ ھے ۔۔۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔ جان۔۔۔۔ پر انکل نے آنٹی کی بات سنی ان سنی کر دی اور تیز تیز دھکے مارتے رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اگلے ھی لمحے ان کی کافی اونچی اواز سنائ دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ندا۔۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔اا۔۔ا۔۔ا۔۔ا۔ا۔۔ ا۔۔۔۔ میں جا۔۔۔رہا ہوں اور یہ کہتے ہوۓ وہ آنٹی کے اوپر ہی لیٹ گۓ اور جھٹکے لینے لگے اور انہوں نے اپنی ساری منی آنٹی کی چوت میں ھی چھوڑ دی۔۔۔۔۔
‎اُس ٹائم میں نے آنٹی کو دیکھا تو وہ بڑی اپ سیٹ نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔ پھر میں نے ان کی غصوے سے بھری آواز سنی ۔۔۔ وہ کہ رہی تھی یہ تم نے کیا کیا زمان ؟؟؟ ۔۔۔۔۔ مجھے تمھارا لن مزید لینا تھا ۔ دیکھ لو تم نے پھر وہی حرکت کی ہے نا۔۔۔۔۔ منح بھی کیا تھا کہ لن نا چوسواؤ۔۔۔۔ پر تم کسی کی سنتے کب ہو۔۔۔۔ آنٹی کی ڈانٹ سن کر انکل نے ایک کھسیانی سی ھنسی ھنس کر بولے ۔۔ کوئ با ت نہیں ڈارلنگ میں کل زیادہ ٹائم لگا دوں گا۔۔۔۔ یہ سن کر آنٹی آگ بگولہ ھو گئ اور بولی ٹائم کے بچے مجھے ابھی لن چاہۓ اور تم کل کی بات کر رہے ہو۔۔۔ آنٹی کی بات سن کر انکل دوبارہ کھسیانی ھنسی ھنس کر بولے “ انگلی مار دوں”
‎یہ سن کر آنٹی کو مزید غصہ آ گیا اور تقریباً چلا کر بولی ۔۔۔۔بہن چود ۔۔۔ حرامی ۔۔۔۔۔ سالے۔۔۔۔ تم ہمیشہ ایسے ہی بہانے بناتے ہو۔۔۔۔ اور پلنگ سے اُٹھ کر کپڑے پہننے لگی –
‎یہ دیکھ کر میں وہاں سے بھاگا اور جا کر بیڈ پر لیٹ گیا لیکن نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی میں بہت زیادہ گرم ہو چکا تھا اور میرا لن میرے پاجامے میں کھڑا تھا اور بیٹھنے کا نام ھی نہیں لے رہا تھا گرمی سے میرے ہونٹ خشک ہو رہے تھے اور میں ھلکا ہلکا کانپ بھی رھا تھا میرا حلق بھی خشک ہو رہا تھا اور میں لن کو ہاتھ میں پکڑے اسے مسلسل دبا رھا تھا میں نے سوچا چلو مُٹھ مارتا شاید کھچھ سکُون مل جاۓ ۔۔ پر مُٹھ سے پہلے مجھے سخت پیاس لگ رہی تھی چنانچہ میں ٹھنڈا پانی پینے کے لیۓ کچن کی طرف چلا گیا اور پھر ٹھنڈے پانی کی بوتل کے لیۓ جیسے ھی میں نے فرج کا دروازہ کھولا مجھے ندا آنٹی بھی کچن کی طرف آتی دکھائ دی اُنہوں نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا سو جیسے ھی وہ میرے پاس آئ اور بڑے 
‎خوشگوار لہجے میں بولی ھیلو شاہ جی کیا ہو رہا ھے ؟ میں نے ندا آنٹی کے سوال کا کوئ جواب نا دیا اور چپ رہا کہ اس وقت میری حالت کافی خراب تھی میری آنکھیں اور چہرہ بہت سُرخ ہو رہے تھے اور میں جزبات کی وجہ سے ہولے ہولے کانپ بھی رہا تھا میری ساری باڈی ہیٹ کی وجہ سے بہت تپ رہی تھی ۔۔ آنٹی نے جو میری حالت دیکھی تو وہ یہ سمجھی کہ میں بخار کی وجہ سے تپ رہا ہوں – وہ آکے بڑھی اور اپنا ایک ہاتھ میرے ماتھے پر رکھ کر بولی۔۔۔۔۔۔او۔۔۔۔۔ شاہ جی تم کو تو بڑا سخت بخار ھے اور تمہارا جسم بخار کی وجہ سے تپ رھا ھے اور یہ کہ کر انہوں نے میرا ھاتھ پکڑا اور مجھے بیڈ روم میں لے گئ اور مجھے بستر پر لٹا کر بولی تم لیٹو میں تمھارے لیۓ دوائ وغیرہ لے کر آتی ہوں یہ کہا اور دوائ لینے کے لیۓ چلی گئ کچھ دیر بعد جب وہ واپس آی تو ان کے ہاتھ میں کچھ گولیاں اور پانی کا گلاس تھا وہ میرے پاس آی اور بولی اُٹھو بیٹا یہ دوائ کھا لو اور مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھا لیا ۔ اور میرے ساتھ پلنگ پر ہی بیٹھ گئ میں نے ان کے ہاتھ سے گولیاں لیں اور وہ تھوڑا میری طرف جھک گئ اور پانی کا گلاس میرے منہ سے لگا دی
‎گرمیوں کے دن تھے اور آنٹی نے باریک سا لباس پہنا ہوا تھا اُس پر قیامت یہ کی ان کی قمیص کا گلا کچھ زیادہ ھی کھلا تھا میں جو پہلے ھی سیکس کی آگ میں جل رہا تھا اور اب اُن کے یوں نزدیک بلکل میرے پاس بیٹھنے سے میرا حال مزید بے حال ہوتا جا رہا تھا
[11/3, 4:13 PM] +92 317 6162559: #آنٹی 4
#صفحہ_4

چنانہ جب انہوں نے جھک کر پانی کا گلاس میرے منہ سے لگایا تو میری نطر ان کے شفاف بدن پر تھی ان کے اس طرح جھکنے سے مجھے ان کے موٹے ممے اس قدر صاف اور واضح نظر آۓ کہ مجھے خود پر قابو رکھنا مشکل ہو گیا چنانچہ میں نے اپنا لن اُن کی کمر کے ساتھ ٹچ کر دیا لکین وہ میری صحت کے بارے میں اتنی فکر مند تھیں کہ ان کو محسوس ہی نہ ہوا کہ میرا لن ان کی کمر کو ٹچ کر رہا ہے چنانہ انہوں نے اس ٹچ کا کوئ نوٹس نہ لیا لیکن جب میں نے اپنا لن اُن کے ساتھ دوسری ۔۔۔۔۔ پھر تیسری دفحہ ٹچ کیا تو وہ تھوڑا سا چونکی اور پھر جوں ہی اُنہوں نے گردن موڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا تو ۔۔۔۔۔۔ وہاں ایک موٹا اور بڑا سا لن مست ہاتھی کی طرح پاجامے میں لہرا رہا تھا میرے لن کا سائز ۔۔ لمبائ ۔۔ موٹائ یہ سب دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بے اختیار ہو کر بولی ۔۔۔۔ اوہ۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ۔۔ میں نے دیکھا کہ حیرت کی وجہ سے ان کی آنکھیں ڈھیلو ں سے باہر نکلی ہویئں تھیں اور وہ متاثر کُن نطروں سے لہراتے ہوۓ لن کو مسلسل دیکھے جا رہی تھیں ( بحد میں انہوں نے مجھ سے اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا کہ وہ ایک چھوٹے سے لڑکے سے اتنے بڑے لن کی توقع نہیں کر رہی تھی) وہ کبھی مجھے اور کبھی میرے لن کو دیکھتی اور اپنے خشک ہونٹوں کو تر کرنے کے لیۓ ان پر زبان پھیرتی جا رہی تھی ۔۔۔ اُ ن کا چہرہ جزبات کی وجہ سے سُرخ ھو رہا تھا اور اُن کو کچھ سمجھ نھیں آ رہا تھا کہ وہ میری اس حرکت پر کیا ری ایکٹ کرے۔۔۔۔۔ کیونکہ تھوڑی دیر قبل وہ خود بھی اس آگ میں جل چکی تھی ۔۔۔۔ اور میرا لن دیکھ کر اُن کے جزبات میں اُتھل پتھل ہو چکی تھی جس کا ثبوت اُن کا سُرخ چہرہ اور خشک ہونٹ تھے۔ جب وہ لن کی طرف دیکھتی تو ان کا دل کرتا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ کر لیں پر جب میری طرف دیکھتی تو وہ سوچ میں پڑ جاتی کہیں ایسا نا ہو جاۓ کہیں ویسا نہ ہو جاۓ
‎غرص کی وہ ایک دوراہے کر کھڑی نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔
‎اُن کے یہ تائثرات دیکھ کر میں نے ہی کچھ کرنے کی ٹھانی ویسے بھی عورت ہونے کی وجہ سے وہ پہل نہ کر سکتی تھی اور میرا یہ حال تھا کی منی میرے سر پر چٹرھی ہوئ تھی ۔۔۔ چنانچہ میں نے فوراً ہی پاجامے کا نالا کھولا اور لن کو پاجامے سے باہر کر دیا میرے موٹے ٹوپے کو دیکھ کر وہ اور متاثر ہوئ کہ نھیں یہ میں نہیں جانتا پر میں نے یہ ضرور جج کر لیا کہ اُن کی نظریں اب بھی میرے لن پر ھی تھیں میں نے دوسری حرکت یہ کی کہ میں نے اُن کا گورا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔ کہ جو ہو سو ہو ۔۔۔
‎جیسے ھی میں نے اُن کا ہاتھ اپنے لن پر رکھا اُنہوں نے فوراً ہی اپنا ہاتھ وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔پر میں نے زبردستی ان کا ہاتھ اپنے لن پر ٹکا دیا-
‎انُہوں نے لن پر ہاتھ رکھے رکھے میری طرف دیکھا اور سرگوشی میں بولی ۔۔۔۔۔۔ ایسا نہ کرو شاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز مجھے جانے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر میں نے زبردستی ان کا ہاتھ اپنے لن پر رکھے رکھا ۔۔۔۔۔۔ ۔ اور بولا آنٹی پلیز بس تھوڑی دیر میرا لن پکڑے رکھیں اور ان کا ہاتھ لن پر دبا دیا ۔۔۔۔ اس پر وہ بولیں ۔۔۔۔۔ دیکھو تم میرے آصف کے دوست ھو اور مجھے آصف ہی کی طرح لگتے ہو ۔۔۔۔ اور میں تمہاری آنٹی ہوں ۔۔۔۔۔۔ یہ کہا اور ایک گہری سانس لی اور سر جھکا لیا ۔۔۔۔ تب میں نے ان سے کہا آنٹی جی !!۔۔۔۔ بےشک آپ میری انٹی ہو اور بے شک آپ میرے دوست کی ماں ہو پر آپ ایک عورت بھی ہ
‎۔۔۔ اور مجھے پتہ ھے کہ اس وقت اس عورت کو اس کی شدید ضرورت ھے اس لیۓ کہ میں نے تھوڑی دیر پہلے آپ کا انکل کے ساتھ سارا سیکس سین دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔
‎میری بات سن کر وہ ایک دم اپنی جگہ سے اُچھلی ۔۔ ایسا لگا کہ کسی نے ان کے پاؤں میں بم پھوڑ دیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے بڑی بے یقینی سے میری طرف دیکھا اور بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تت۔۔۔ تت ۔۔۔ تم نے کب دیکھا۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ان کی انکھوں میں ہزاروں سوال تھے۔۔ تو میں نے جواب دیا کہ اب سے کھچھ دیر پہلے ۔۔۔۔۔۔اور میں نے جلدی جلدی ساری سٹوری سنا دی۔۔۔۔ اس دوران وہ پھٹی پھٹی نطروں سے میری طرف دیکھے جا ری تھی ۔۔۔۔ جب میں نے بات ختم کی وہ کافی حد تک نارمل ہو چکی تھی کہنے لگی ۔۔۔۔۔
[11/3, 4:13 PM] +92 317 6162559: #آنٹی 5
#صفحہ_5

اچھا تو تم یہ سب کھچہ دیکھتے رہے ۔۔۔ بڑے بے شرم ہو تم ۔۔۔ ان کا موڈ دیکھ کر مجھے کچھ اور حوصلہ ہوا اور میں نے کچھ اور آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔۔ اور بولا ۔۔ یس س۔س۔س آنٹی جی اس کے ساتھ ساتھ میں نا اپ کے جسم کا ایک ایک انچ بھی دیکھا ہے اور آنٹی بڑا زبردست جسم ھے آپ کا ۔۔۔۔۔ اور آنٹی جی مجھے بخار نہیں آپ کے جسم کی گرمی ھے جو میرے پورے بدن میں پھیلی ہوئ ھے
‎میں نے یہ کہا اور ساتھ ھی اپنا منہ ان کے پاس لے گیا اور آنٹی کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیۓ ۔۔۔ پہلے تو انہوں نے اپنا منہ ادھر اُدھر کرنے کی کوشش کی پھر میری مسلسل کوشش کو دیکھ کر اپنا منہ ایک جگہ کھڑا کر دیا اُن کی مزاحمت دم توڑ چکی تھی اب میں نے اپنی زبان نکا ل کر ان کے ہونٹ چاٹنا شروع کر دیۓ پہلے تو انہوں نے اپنا منہ سختی سے بند رکھا پھر دھیرے دھیرے ان کے ہونٹوں کی سختی نرمی میں بدلتی گئ اور پھر انھوں نے اپنا منہ میری زبان کے لیۓ پوری طرح کھول دیا اوراب میں نے اپنی زبان ان کے منہ میں داخل کر دی اُف ف ف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کا منہ بڑا ہی گرم اور اس میں سے بڑی ہی مست مہک آ رہی تھی میں نے بڑی بے صبری سے ان کی زبان کو اپنے منہ میں لیا اور اس کو چوسنے لگا ۔۔۔۔۔ اور کافی دیر تک ان کی ٹیسٹی زبان کا رس اپنے منہ میں منتقل کرتا رہا اس دوران پہلی دفہ مجھے ان کا ھاتھ اپنے لن پر سخت ہوتا ہوا محسوس ہوا- وہ با ر بار میرے لن کو اپنی مُٹھی میں پکڑ کر دباۓ جا ری تھیں-
‎کچھ دیر تک ھم کسنکگ کرتے رہے پھر جب ان کا ہاتھ کی گرفت میرے لن پر کافی ٹائٹ محسوس تو میں نے کسنگ چھوڑ دی اور اپنا منہ ان کے منہ سا الگ کر لیا ۔ جیسے ھی ان کا منہ میرے منہ سے الگ ہوا ان کی ساری توجو میرے لن کی طرف منتقل ہو گئ اور انہوں نے میرا لن ہاتھ میں پکڑا تو پہلے سے ہوا تھا اب انہوں نے میری مُٹھ مارنی شروع کر دی اور بولی ۔۔ شاہ تمھارا لن بڑا ہی کمال کا ہے اس نے تو مجھے پاگل کر دیا ھے ۔۔۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ آنٹی میرا لن اچھا ھے نا۔۔۔۔ تو وہ بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا نہیں بہت اچھا ہے ۔۔۔۔۔ یہ سن کر میں نے ان کا سر پکڑ کر لن کی طرف دبا دیا اور بولا آنٹی جی میرا بھی لن چوسو نا پلیز۔۔۔۔۔۔۔اور کہا جیسے آپ انکل کا چوس رہی تھی ویسے ھی میرا بھی چوسیں
‎انہوں نے لن پکڑے پکڑے ایک نظر میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔۔ فکر نہیں کرو میں انکل کی طرح نہیں بلکہ اس سے بھی اچھا تمہارا لن چوسوں گی یہ کہا اور اپنا سر میرے لن پر جھکا دیا-
‎اب انہوں نے اپنی زبان منہ سے باہر نکالی اور میرے ٹوپے کو چاٹنا شروع کر دیا پھر اس کے بعد انہوں نے میرا لن اپنے منہ میں لینا شروع کر دیا انہوں نے میرے سخت لن کو اپنے نرم ہونٹوں میں بڑی سختی سے دبا لیا اور آہستہ آہستہ اپنا منہ لن کے نیچے کی طرف لے جانا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ لن کو اپنی زبان کا ٹچ بھی دیتی جاتی تھی اس طرح انہوں نے اپنا منہ جہاں تک ہو سکا میرے لن کے اینڈ تک لے گیئں جب لن کا منہ آگے جانا ممکن نہ رہا تو انہوں نے اندر ہی اندر لن پر زبان پھیری اور لن کہ اپنے منہ سے باہر نکال لیا اور پھر ۔۔۔۔ انہوں نے اپنی زبان سے سارا لن چاٹنا شروع کر دیا اور نیچے سے لے کراوپر تک میرے لن کو خوب چاٹا پھر جب لن کو چاٹتے چاٹتے اوپر تک آئ تو پھر سے لن کو اپنے منہ میں لے کر پھر سے چوسنا شروع کر دیا –
‎اُف ۔ف۔ف۔فف۔ف۔فف۔ ایک تو آنٹی کے لن چوسنے کا دلکش انداز دوسرا ان کے منہ کی گرمی ۔۔۔۔ ان سب چیزوں نے مل کر مجھے پا گل سا کر دیا اور میرے سارے بدن میں ایک آگ سی بھر گئ چنانچہ اگلی دفعہ جیسے ہی آنٹی نے میرا سارا لن اپنے منہ میں ڈالا ۔۔۔ تو ۔۔۔۔ مجھے ایسا لگا کہ میرے سارے جسم کا خون میرے لن کی طرف دوڑ رھا ھے اور میں نے آنٹی کا سر بڑی مضبو طی سے پکڑ لیا اور اس کو اپنے لن کی طرف دبانے لگا میرا خیال ہے وہ سمجھ گئ تھی کہ میں چھٹنے والا ہوں سو انہوں نے بڑی ٹرائ کی کہ وہ اپنے منہ سے میرا لن باہر نکال سکیں لیکن میں نے ان کا سر اتنی مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کہ وہ چاہ کر بھی ایسا نہ کر سکیں – اس کھیچھا تانی میں وہ بس اتنا ہی کر سکیں کہ میرا ٹوپا ہی ان کے منہ میں رہ گیا اور۔۔۔۔۔
‎پھر اچانک ہی میرے لن نے ایک پچکاری ماری اور ساری منی ان کے منہ میں گرنا شروع ہو گئ ۔۔۔۔
[11/3, 4:13 PM] +92 317 6162559: #آنٹی 6
#صفحہ_6
‎جیسے ہی میری منی ان کے منہ میں گرنا شروع ہوئ وہ بھی جوش میں آ گٰئ اور انہوں نے باہر بچے ہوۓ لن کی مُٹھ مارنا شروع کر دی اور جب انہوں نے محسوس کر لیا کہ منی کا آخری قطرہ بھی ان کے منہ میں گر چکا ہے تو انہوں نے لن کو اپنے منہ سے باہر نکالا اور ساری منی قالین پر تھوک کر بڑی ہی مست آواز میں بولی “ گندا بچہ ” پھر مسکرائ اور پاس پڑے دوپٹے سے اپنا منہ صاف کیا اور بولی “ مسٹر شاہ تم تھوڑے سے فریش ہو جاؤ” میں تمھارے انکل کو دیکھ کر ابھی آتی ہوں یہ کہ کر وہ چلی گئ –
‎تقریباً 10،1555 منٹ کے بعد وہ واپس آئ تو میں نے ان سا پوچھا کہ آنٹی انکل کی کیا پوزیشن ھے ؟ تو وہ برا سا منہ بنا کر بولی بے خبر سو رہا ھے سالا اور پھر میرے لیۓ اپنی باہیں پھیلا دیں میں بھاگ کر گیا اور ان کے گلے سے لگ گیا انُہوں نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ اپنا سینہ میرے سینے کے ساتھ دبایا اور میری گردن پر بوسہ دیا پھر اُنہوں نے میرے دائیں کان کی لو کو اپنے منہ میں لیا اور اسے چوسنے لگی جس سے میرے سارے بدن میں سنسنی سی دوڑ گئ اور میں نے اپنے ہونٹ ان کے ہونٹوں پر رکھ دیۓ اور ان کا نیچے والا ہونٹ چوسنا شروع کر دیا ۔۔پھر آنٹئ نے اپنی زبان میرے منہ میں ڈالی اور ان کی زبان میری زبان کو تلاش کرنے لگی یہ دیکھ کر میں نے فوراً ہی اپنی زبان کو ان کی زبان کے حوالے کر دیا اور اب ہماری زبانوں نے آپس میں ٹکرانا شروع کر دیا تو مجھے ان کی زبان تھوڑی سی نمکین محسوس ہوئ ۔۔۔ اور میں 
‎تھوڑا ہچکچایا تو وہ سمجھ گئ اور اپنا منہ ہٹا کر بولی ڈرو نہیں یہ تمہاری ہی منی کا ٹیسٹ ھے تو میں نے کہا کہ وہ تو آپ نے تھوک دی تھی تو وہ کہنے لگی نہیں تھوڑی سی رکھ بھی لی تھی تو میں نے کہا وہ کیوں تو وہ کہنے لگی “ بس ویسے ہی ” اور کہنے لگی اپنی زبان دو میں چوسوں گی اور دوبارہ زبان میرے منہ میں ڈال دی اور میری زبان کو چوسنے لگی – زبان چوسا ئ کے ساتھ ساتھ ان کا تھُوک بھی میرے منہ میں آ گیا تھا میں نے ان کا تھُوک اپنے منہ میں جمع کیے اور پھر اس میں کچھ اپنی طرف سے اضافہ کیا اور ان کے منہ میں واپس ڈال دیا اور اس طرح ہم کافی دیر تک کسنگ کرتے رہے اس دوران میرا لن پھر سے کھڑا ہو چکا تھا سو انہوں نے اپنے ایک ہاتھ سے میرے لن کو پکڑا اور اسے دبانے لگی
‎پھر انہوں نے اپنا منہ میرے منہ سے ہٹایا اور مست اؒواز مین بولی بولی “ دودھ پیو گے بےبی ” یہ کہا اور اپنی قمیض اتار دی اور پھر جلدی سے برا کا ہُک بھی کھول دیا اور مما ننگا کر کے اسے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور نپل میرے منہ کے ساتھ لگا کر بولی دودھ پی لے منا اور میں نے ان کا نپل اپنے منہ میں لیا اور اسے چوسنے لگا جبکہ دوسرے ھاتھ سے ان کا دوسرے ممے کا نپل مسلنے لگا ۔۔۔۔ اور آنٹی نے مستی میں کراہنا شروع کر دیا ۔۔۔آہ۔ہ۔ہ۔ہ ۔۔۔۔۔۔۔ اُف ۔۔۔۔ چوستے رہو میرا مما ۔۔۔۔۔۔۔ ایسے ھی پیتے رہو میرا دودھ ۔۔۔۔آہ ۔ہ۔ہ۔۔۔ہمم مم۔ اور میں اگلے 10 منٹ تک ایسے ہی آنٹی کے باری باری نپلز چوستا اور مسلتا رہا-
‎پھر انٹی نے میرے منہ سے اپنے نپلز چھڑاۓ اور بولی آؤ اب کچھ اور کرے ھیں اور جلدی سے مجھے کپڑے اتارنے کو کہا اور خود وہ اوپری ننگی تھی ہی سو اب اُنہوں نے فٹوفٹ اپنی شلوار بھی اتار دی اور فل ننگی ہو کر بیڈ پر لیٹ گئ پھر جیسے ھی میں ننگا ھو کر ان کے پاس بیڈ پر پہنچا تو وہ چھلانگ لگا کر بیڈ سے اٹھی اور میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بولی اُف۔۔۔۔۔کیا لن ھے اور پھر اپنا منہ لن کے قریب لے گئ اور ایک چوما دے کر بولی تمہیں پتہ ھے جب فرسٹ ٹائم میں نے اسے دیکھا تھا تو میں اسی وقت لیک ہو گئ تھی یہ کہا اور لن کہ منہ میں لے کر پُر جوش طریقے سے چوسنے لگی ۔۔۔۔۔
[11/3, 4:13 PM] +92 317 6162559: #آنٹی 7
#صفحہ_7_Last
‎آنٹی کافی دیر تک مجھے اپنے زبردست چوپے کا مزہ دیتی رہی پھر اُنہوں نے اپنے منہ سے میرے لن نکلا اور بیڈ پر سیدھی ہو کر لیٹ گئ اور انہوں نے ٹانگیں کھول دیں اور اپنی پھدی کی طرف اشارہ کر کے بولی شاہ میری پھدی کا مزہ نہیں لو گۓ ؟یہ سُن کر میں ان کی ٹانگوں کے بیچ جا کر بیٹھ گیا اور آنٹی کی چوت دیکھنے لگا- آنٹی کی پھدی بالوں سے پاک تھی اور پھدی کے لپس کافی سُرخ تھے پھدی کے سُوراخ کے عین اوپر براؤن رنگ کا موٹا سا دانہ تھا جو اُس وقت تک کافی سُوجا ہوا تھا میں نے یہ سب ایک نطر میں دیکھا اور اپنے ہونٹ آنٹی کی چوت پر رکھ دیۓ ۔ ۔۔۔۔ ان کی چوت سے بڑی ہی مست مہک آ رہی تھی اور میں بے کود ہو کر وہ بُو سونگھنے لگا ۔۔۔۔ میں کافی دیر تک آنٹی کی پھدی سے آنے والی مہک سونگھتا رہا پھر میں نے میں اپنی زبان منہ سے باہر نکالی اور ان کی چوت پر رکھ دی-
‎آنٹی کی چوت بڑی تپی ہوئ اور گرم تھی اور پھر جیسے ہی میں نے اپنی زبان اُن کی پھدی میں ڈالی تو ۔۔۔۔ وہ بہت زیادہ گیلی تھی اور اُن کی چوت کے گرم پانی کا زائقہ مجھے اپنی زبان پر بڑا اچھا لگ رہا تھا اب میں نے اپنی زبان ان کی چوت کے تھوڑا اور اندر لے گیا اور اچھی طرح سے چوت چاٹنے لگا ادھر آنٹی مزے کے مارے شور مچا رہی تھی آہ۔ ہ۔ ہ۔ ہ۔ ہ۔ہ ۔۔۔ شاہ ۔۔۔ تم نے اتنی اچھی طرح چوت چاٹنا کہاں سے سیکھا ۔۔۔۔ تمہاری زبان تو میری جان نکا ل دے گی ۔۔۔ اور دوران آنٹی 2،3 دفعہ ڈسچارج بھی ہوئ ۔۔۔۔ پر میں ان کی چوت چاٹنے میں لگا رہا ۔۔۔آخر کر آنٹی مجھ سے خود ہی بولی ۔۔۔۔ بس میری جان بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب لن میری اندر ڈالو کہ تمھارے چاٹے نے تو میری چوت کی پیاس اور بھی بڑھا دی ہے۔۔
‎یہ سن نے اپنا منہ ان کی چوت سے ہٹا دیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر لن کو ان کی چوت پر سیٹ کیا اور ہلکا سا دھکا لگا کر اندر ڈالنے لگا تو اس دوران آنٹی بولی ۔۔۔ لن اندر ڈال کر تھوڑی دیر ہلنا نہیں تو میں نے کہا ہلنا کیوں نہیں آنٹی جی ؟؟؟؟؟؟؟؟ تو وہ کہنے لگی میں کھچہ دیر تمہارا لن اپنی چوت میں محسوس کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔ تو میں نے کہا کہ ٹھیک ھے آنٹی جیسا کہا ھے ویسا ہی ہو گا اور ٹوپا ان کی چوت کے اینڈ پر رکھا اور ہلکا سا دبا دیا اور لن پھسلتا ہوا آنٹی کی چوت میں داخل ہو گیا – جیسے ہی لن آنٹی کی چوت میں گھسا آنٹی نے مستی میں ایک چیخ ماری آُف۔۔ ۔۔۔ ف ۔۔۔ ف آہ۔۔۔۔ ہ ۔۔ شاہ تیرا لن بہت بڑا اور ۔۔۔ آہ ہ ہ۔۔ پورا ڈال۔۔۔۔۔ لن پورا ڈالنا ۔۔۔۔ پھر بولی سُنا تم نے لن پورا ڈالنا۔۔۔۔۔۔ تو میں نے جواب دیا کہ ۔۔۔۔ آنٹی میں لن پورا ہی ڈالوں گا ۔۔۔میں نے یہ کہا اور ایک زور دار گھسا مارا ۔۔۔۔۔ وہ پھر مستی میں چلائ ۔۔ مار دیا شاہ تیرے لن نے مار دیا میں تمھارے لن کی نشے میں ڈوب رہی ہوں اور بولی ۔۔۔۔ اب ہلنا نہیں بس ایسے ہی لن پڑا رہنے دو اور خود آنکھیں بند کر لی اور بولی شاہ ہ ہ ۔۔۔۔ میں تمہارے لن کا مزہ لے رہی ہوں میری چوت تمہارے لن سے بھر گئ ہے۔۔۔۔۔ کچھ دیر تک لن اُن کی چوت میں پڑا رہا-
‎پھر اچا نک آنٹی نے اپنے چوتڑ نیچے سے اُٹھا کر گھسا مارا اور بولی مار میری پھدی کو مار ۔۔۔۔۔ بہن چود مار نا۔۔۔۔ اور میں سمجھ گیا کہ آنٹی اب چھوٹنے والی ہیں ۔۔ چناچہ میں نے زور زور گھسے مارنا شروع کر دیۓ میرے ہر گھسے کا وہ مزہ لیتی اور پھر سے کہتی ۔۔۔۔۔۔ میری چوت پھاڑ دے ۔۔۔۔۔۔ اور پھر ان کا سانس دھوکنی کی طرح چلنا شروع ہو گیا اور اب ان کے منہ سے بس آ آ آ۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔ کی آوازیں نکلتی رہیں اور پھر مجھے بھی ایسا لگا کہ میری ٹانگوں کا سارا خون میرے لن کی طرف بھاگ رہا ھے ۔۔۔۔ تب میں نے اپنے گھسوں کی رفتار مزید بڑھا دی ۔۔۔ یہ دیکھ کر آنٹی چونک گئ اور بولی شاہ ہ ہ تم ۔۔۔بھی۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے اُکھڑے اُکھڑے سانسوں میں جواب دیا ۔۔۔۔۔ ہاں میں بھی چھوٹنے والا ہوں یہ سن کر انہوں نے میری کمر پر ہاتھ پھیرنا شوروع کر دیا اور بولیں ۔۔۔۔ چھوٹ میری ۔۔۔۔ جان میری میں اپنا سارا پانی چھوڑنا ایک قطرہ بھی پھدی سے باہر نہیں جانا چاہیۓ ۔۔۔ شاباش چھوٹ۔۔۔۔ چھوٹ نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر میں 2،3 اچھے خاصے گھسوں کے بعد ان کی پانی سے بھری چوت میں چُھوٹتا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔چُھو ٹتا۔۔۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔۔ا چُھو ٹتا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم
[11/3, 4:13 PM] +92 317 6162559: ارم میری بہن..

سب سے پہلے میں آپ کو اپنی فیملی کے بارے میں بتا دوں..
میں اس وقت پانچویں کلاس میں پڑھتا تھا اور میری عمر 9 سال تھی.ارم مجھ سے 2 سال چھوٹی بہن تھی..اور اس کے بعد ایک بھائی تھا..فی الحال ہم 3 بہن بھائی تھے اور امی اس وقت حاملہ تھی چوتھے پچے کے لیے.میرے ابو دوسرے شہر میں کام کرتے تھے..چونکہ امی حاملہ تھی اور ابو گھر نہیں تھے ہوتے تو ہم سب بہن بھائی انجواۓ کرتے اور ساتھ محلے کے بچے بھی آجاتے اور ہم رات ک وقت گھر میں چھپن چھپائی کھیلتے.
ایک دن ہم رات کے وقت کھیل رہے تھےکچھ محلے کے بچے تھے اور ارم تھی اور میں تھا..تب میں کہا کہ آج ڈاکٹرڈاکٹر کھیلتے ہیں.میں ان سب کو مریض بناتا اور ان کو ننگا کر کے الٹا لٹا کر گانڈ ننگی کرتا اور اپنی للی نکال کر اس میں رگڑتا اور کہتا کہ ٹیکا لگ رہا ہے..ہم اسی طرح کھیلتے رہتے اور وہ بچے چلے جاتے لیکن میں اور ارم کھیلتے رہتے..میں ارم کو ننگی کرتا تب ارم کی پھدی بالکل چھوٹی سی تھی اور اس پھدی میں للی رگڑتا اور کبھی ارم مجھے نیچے لٹا کر میری للی پر اپنی ننھی سی پھدی ننگی کر کے رکھ کر اپنے ھاتھ سے پکڑ کر مسلتی میری للی پر اور کہتی ٹیکا لگ رہا ہے..حالانکہ دونوں صورتوں ٹیکہ ارم کو ہی لگتا تھا.ہاہاہا.
جب بھی میں ارم کی ننھی سی پھدی میں للی مسلتا ایک عجیب سا مزا آتا اور ظاہر ہے ارم کو بھی مزا آتا اور وہ کھیلتی رہتی...ہمیں جب بھی موقع ملتا ہم ایسے کھیلتے..اسی طرح ارم بڑی ہوتی گئی. میری امی حاملہ تھی اور انہوں نے بچہ پیدا کیا تھا نارمل ڈلیوری سے..ادھر ہماری فیملی مکلمل ہو جاتی ہے.اور امی کی عمر 26 سال تھی.بہت چھوٹی عمر میں شادی ہوئی امی کی اور 2،2 سال کے وقفے سے 4 بچے دییے امی نے اور ابو بیمار ہوۓ اور فوت ہو گئے..امی ابھی جوان تھی...
ارم کی عمر اب 10 سال تھی اور میں 12 سال کا ہو چکا تھا.ہم چھوٹے بھائی کیساتھ کھیلتے اور رات کے وقت امی کے بچہ دینے کی وجہ سے میں اور ارم ایک ہی بستر پر سوتےاور جب سب سو جاتے تب میں ارم کو گانڈ پر چھیڑتا اور ارم ساتھ دیتی اور میں شلوار اتار کر ارم کی گانڈ کی موری میں تھوک لگاتا اور لن پر تھوک لگاتا اور لن کی ٹوپی ارم کی گانڈ کی موری میں رگڑتااور تھوک زیادہ ہونے کی وجہ سے لن گانڈ سے پھسل کر پھدی کی لائن میں بھی رگڑتا.تب ایک عجیب سا سرور آتا اور ارم کی گانڈ کی موری پر جب لن کی ٹوپی لگتی تو ارم اپنی گانڈ کی موری کبھی ٹائٹ کرتی کبھہ نارمل جو مجھے لن رگڑنے میں بہت مزا دیتی..اور جس انگلی سے میں ارم کی گانڈ میں تھوک لگاتا اس انگلی سے بہت مزیدار خوشبو آتی. اسی طرح کرتے لن کا پانی تو نہ نکلتا کیونکہ ہم چھوٹے تھے ابھی لیکن مزا آتا اور ہم سو جاتے.ارم کی گانڈ اور پھدی میں لن رگڑتے ایک عرصہ ہو گیا لیکن ارم نے کبھی امی کو نہیں بتایا کہ بھائی ایسا کرتے ہیں.
..
ارم آٹھویں کلاس میں تھی اب اور میں میٹرک میں تھا..اب ارم بڑی ہو گئی تھی اب مجھ سے شرماتی تھی اور جاگتے ہوئے نہیں تھی کرواتی اور جب بھی میرا دل کرتا میں بہانے بہانے سے ارم کی گانڈ پر ھاتھ پھیرتا تو اسے پتہ چل جاتا کہ بھائی میری کنواری پھدی اور گانڈ سے مزا کرنا چاہ رہا ہے تو ارم بہانے سے کمرے میں جا کر لیٹ جاتی اور سونے کا ناٹک کرتی..ناٹک اس لیے کیونکہ 5 منٹ بعد جا کر میں شروع ہو جاتا اور وہ ساتھ دیتی....
اب میرے لن کا پانی نکلنا بھی شروع ہو چکا تھا اور میری سگی بہن کی پھدی نے بھی پانی چھوڑنا شروع کر دیا تھا.اور میں کلاس کے لڑکوں سے کافی کچھ سیکھ رہا تھا اور وہ ارم پر اپلائی کرتا.ہاہاہا.
گرمیوں کے دن تھےمیں اور ارم چھوٹے بھائی سے کھیل رہےتھے اور کھیل کے دوران بار بار میں ارم کی گانڈ پر ھاتھ پھیرتا اور ارم گھوڑی بن کر بھائی کو کھیلاتی.میں بھائی کو ارم کے اوپر بیٹھاتا اور خود ارم کی گانڈ کے پیچھے آ جاتا اور ارم آگے سے گھوڑی بن کر چلتی جس سے ارم کی گانڈ کک لائن کھل جاتی اور میں جان بوجھ کر ارم کی گانڈ کی کھلی لائن میں لن لگاتا.ارم سمجھ گئی اور بھائی کو امی کو دے کر کہا مجھے نیند آرہی ہے اور بھائی کے لیے دوسرے کمرے میں چلی گئی.
5 منٹ کے بعد میں بھی چلا گیا تو ارم کروٹ لے کر لیٹی تھی کپڑا اوپر لیکر.
میں اپنی سگی بہن کیساتھ لیٹ گیا اور دایاں ہاتھ ارم کی گانڈ پر رکھااور ہاتھ رکھتے ہی ارم کے کنوارے جسم سے ایک کرنٹ لگی اور میرا لن کھڑا ہو گیا لیکن ارم بلکل نہیں ہلی.میں پہلے ارم کی گانڈ اوپر سے مسلنی شروع کی اور پھر آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ ارم کی شلوار میں ڈالنا شروع کر دیا.جب میں ہاتھ ارم کی شلوار میں ڈالا تو ارم کی ننگی گانڈ پر ھاتھ رکھتے ہی میرے لن نے جھٹکے لینے شروع کر دییے ادھر ارم کی گانڈ کے رونگٹے کھڑے ہوتے میں اپنے ہاتھ پر محسوس کر رہا تھا...رونگٹے کھڑےتب ہوتے ہیں جب انسان جاگ رہا ہو اور مزا محسوس کرے..لیکن میں بھی نہیں تھا اسے محسوس کرواتا کہہ تم جاگ رہی ہو..
ارم کروٹ لیکر لیٹی تھی تو اس پوز میں ارم کی گانڈ کی لائن کھلی ہوئی تھی اورمیں ارم کی شلوار کے اندر سے ارم کی گانڈ کی لائن میں انگلی مسلنی شروع کر دی.ارم کی گانڈ کی چھوٹی سی ٹائٹ موری تھی.جب میں گانڈ کی موری پر انگلی مارتا تو ارم موری کبھی بند کرتی کبھی کھولتی اور مجھے مزا آتا.
اب میں ارم کی شلوار نیچے کر کے پوری گانڈ ننگی کر دی اور اپنی سگی بہن کی کنواری گانڈ کی لائن میں میں منہ رکھ کر گانڈ کی خوشبو سونگھی جو مجھے بیحد سیکسی اور مزے کی لگی.پھر میں ہاتھ پر تھوک لگا کر ارم کی گانڈ کی موری پر لگایا جسے لگاتے ہی ارم نے اچانک موری بند کی.تب میں اپنا لن اپنی سگی بہن کی گیلی گانڈ کی لائن میں رکھ کر پوری لائن میں مسلنہ شروع کیا آھ آھ آھ آھ آھ آھ...مجھے بہت مزا آرہا تھا اس دوران میرا لن بہت دفعہ گانڈ سے پھسل کر ارم کی کنواری پھدی کی لائن میں جاتا جو مجھے گیلی گیلی لگتی اور لن لگتے ہی ایسا لگتا جیسے کتنا مزا آ رہا ہے.کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد میں ارم کے کان میں ہلکا سا کہا کہہ کاش تمہاری اوپر والی ٹانگ تھوڑی آگے ہوتی تو مزاآجاتا..تبھی ارم نے سونے کا ناٹک کرتے ہوئے اوپر والی ٹانگ آگے کر لی جس سے پھدی نظرآنے لگی.میں اپنا دایاں ہاتھ ارم کی پھدی پر رکھا جو کافی گیلی تھی جس سے لگ رہا تھا ایک بہن اپنے سگے بھائی کے لن سے مزا لے کر پھدی کا پانی چھوڑ چکی ہے..
میں پھدی پر ہاتھ رکھا تو مجھے ارم کی کنواری پھدی پر ہلکھ ہلکے بال محسوس ہوئے جو ابھی آ رہے تھے.میں ارم کی پھدی کے چھوٹے چھوٹے بالوں کوانگلیوں میں پکڑ کر مسلنہ شروع کیا جو کہہ بہت سکون دینے والی چیز تھی.اب میں ارم کی گیلی پھدی کی لائن ایک انگلی سے مسلنہ شروع کر دی اور پھدی کی لائن مسلنے کے دوران مجھے اپنی سگی بہن کی کنواری پھدی کے چھوٹے چھوٹےہونٹ اور چھوٹی سی پھدی کی موری محسوس ہو رہی تھی...ارم کی پھدی چونکہ گیلی تھی تو میرا دل کیا اسے چکھنے کو تو میں ارم کے دونوں پٹ تھورے کھول کر اپنی زبان اپنی سگی بہن کی پھدی میں رکھ دی.افففففففففففففف میں بتا نہیں سکتا میری بہن کی پھدی کی خوشبو کتنی مزیدار تھی اور اعم کی پھدی کا پانی گرم اور نمکین تھا..میں ارم کی پھدی کا نمکین پانی چاٹ رہا تھا اور ارم اپنی گانڈ ہلا رہی تھی ہلکی ہلکی لیکن وہ لیٹی رہی..اب میں کچھ دیر ارم کی پھدی چاٹنے کے بعد ارم کی پھدی کا پانی انگلی پر لگا کر ارم کی گانڈ کی موری پر لگایا اور دوبارہ لن ارم کی گانڈ کی موری سے پھدی کی موری تک رگڑنے لگا.اور جب بھی لن کی ٹوپی ارم کی گانڈ کی موری پر لگتی تو ارم اپنی گانڈ کو پیچھے کو زور لگاتی تا کہ بھائی کا لن اس کی گانڈ کی موری میں چلا جائے لیکن میں ڈرتا تھا کہہ دوسرے کمرے میں امی ہیں اور لن اندر جاتے ہی اس سیکسی بہن نے رو پڑنا ہے اور میں پکڑا جاؤں گا.اس لیے میں اندر نہیں ڈالا اور رگڑتا رہا اور کافی دیر ایسا کرتے مجھے لگا میرا پانی نکلنے والا ہے تو میں لن رگڑنے کی سپیڈ تیز کی اور لن کا گاڑھا پانی اپنی سگی بہن کی پھدی کی لائن اور گانڈ کی لائن میں نکال دیا اور لن باہر نکال کر شلوار اوپر کی اور باہر آ گیا.اور وہ بہن جو سونے کا ناٹک کر رہی تھی وہ بھی 2 منٹ بعد اٹھ کر باہر آگئی اور واش روم بھی نہیں گئی اسی طرح گاڑھے لن کے پانی سے بھری پھدی لیکر پھرتی رہی...

 میں اپنے لین کا پانی اپنی بہن کی کنواری پھدی میں نکال دیا اور ارم کی پھدی نے بھی پانی چھوڑا ہوا تھا اور اس طرح ارم کی پھدی کی لائن میں کافی پانی تھا جسے صاف کییے بغیر ارم شلوار اوپر کر کے باہر آ گئی اور ارم کی پھدی والی جگی سے شلوار فل گیلی واضح نظر آرہی تھی جسے میری امی نے دیکھ لیا...امی کو پتہ تھا کہہ ہم دونوں کمرے میں تھے اور پہلے میں باہر آیا اور پھر ارم تو امی نے میری طرف بہت غصے سے دیکھالیکن کچھ کہا نہیں.شائد امی کو پتہ چل چکا تھا کہہ ارم اپنے سگے بھائی کے لن کے نیچے تھی.چونکہ امی نے ابھی کچھ دن پہلے ہی بچہ دیہ تھا اور بچہ بھی پھدی کی موری سے نکلوایا تھا اور یہ چوتھا بچہ تھا جو امی نے دیا اس لیے امی کا تجربہ تھا جو وہ یہ سب سمجھ گئی لیکن چپ رہی.
کچھ دن بعد دوبارہ میری سگی بہن کی پھدی اور گانڈ کی گرمی اسے میرے پاس لے آئی تھی..اور میں اپنی سگی بہن ننگی کر کہہ دیوانوں کی طرح اپنی بہن کی پھدی اور گانڈ چاٹ رہا تھا اور اپنی بہن کی کنواری پھدی سے نکلنے والا لیس دار گاڑھا اور نمکین پانی اپنی زبان سے چاٹ رہا تھا کہہ اچانک مجھے لگا جیسے زبان پر کچھ اور چیز لگی.. میں اپنی بہن کی ٹانگوں سے منہ نکال کر دیکھا تو میری بہن ارم کی پھدی سے خون نکل رہا تھا..میں ڈر گیا اور جلدی سے ارم کے کان میں کہا تمہاری پھدی سے خون نکل رہا ہےاور میں شلوار پہن کر باہر چلا گیا اور ساتھ ہی ارم بھی اٹھی اور امی کی طرف گئی..میں بھی کھڑکی میں کھڑا ہو کر دیکھنے لگا کہہ امی کیا کہتے ہیں لیکن امی کو جب ارم نے بتایا کہہ اس کی پھدی سے خون نکل رہا ہے تو امی مسکرائی اور ارم کو پاس بلایا اور اس کی شلوار نیچے کر کے ارم کی پھدی دیکھنے لگی اور مسکرا رہی تھی جس کی مجھے تب سمجھ نہ آئی لیکن پھر امی نے ارم کی پھدی پر پیڈ رکھا اور انڈرویئر پہنایا تب مجھے سمجھ آئی کہہ آج میری بہن پوری طرح سے جوان ہو گئی ہے.اب ارم کے مینسز کے دن شروع ہو گیۓ تھے...پھر کچھ دن بعد میں اور ارم کھیل رہے تھے اور ارم مینسز میں ہی تھی کہہ امی نے ارم کو کہہ میری بات سنو..میں بھی ساتھ چلا گیا تو امی نے مجھے کمرے سے باہر جانے کو کہا تو مجھے شک پڑا کہہ پھر شائد ارم کی پھدی دیکھنے لگی ہیں اور میں کھڑکی پرآگیا..لیکن اس دفعہ امی اپنی جاون کنواری بیٹی کو بالصفا پاؤڈر دیا (تب ہم گاؤں میں رہتے تھے اور وہاں عورتیں اور امی بھی اپنی پھدی کے بال بالصفا پاؤڈر سے صاف کرتی تھی) امی نے جب ارم کو بالصفا پاؤڈر دیااور سمجھایا بال صاف کرنے کے بارے میں لیکن ارم کوشائد سمجھ نہ آئی کہہ اسے استمعال کیسے کرنا ہے.تب امی کھڑی ہوئی اور اپنی شلوار نیچے کی.اففففففففففففففففففف پہلی دفعہ میں اپنی امی کی پھدی دیکھی جس سے تھوڑے دن پہلے میری امی نے بچہ نکلوایا تھا...امی کھڑی تھی اس لیے امی کی پھدی کی موری نظر نہیں آئی لیکن امی کی پھدی کے لمبے ہونٹ نظر آرہے تھے جو بڑے تھے اور زیادہ نہیں لیکن لٹک رہے تھے..امی کی پھدی پر بال تھے جن پر ہاتھ لگا کر ارم کہ بتایا کہہ ایسے بالصفا پاؤڈر استمعال کرنا ہے.ارم باہر آگئی.اور پھر ارم نہائی اور اپنی پھدی کے بال صاف کییے جو اب جوان ہو چکی تھی..جب ارم نہا کر نکلی تو بہت خوش تھی کیونکہ وہ اپنی پھدی پہلے مینسز کے بعد صاف کر کے آئی تھی...میں باہر بیٹھا ارم کا انتظار کر رہا تھا اور میرا لن کھڑا تھا جسے ارم نے باہر آتے ہی دیکھا اور مسکرائی..شائد میری بہن بھی جوان ہونے کے بعد اپنی صاف پھدی اپنے بھائی کو دکھانے کے لیے بیتاب تھی.کیونکہ جب ارم کو مینسز آۓ تھے تب ارم کی پھدی چاٹنی درمیان میں چھوڑ دی تھی...ارم بھی میری طرح بےچین تھی کہہ نہاتے ہی سونے آ گئی اور میں اہنی بہن کو لیٹتے ہی ننگا کر لیا..اففففففففففففف بال صاف کرنے کے بعد میری بہن کی پھدی کمال لگ رہی تھی..میں پاگلوں کی طرح اپنی بہن کی پھدی پر حملہ کیا اور چاٹنی شروع کر دی..آج ارم کافی دن بعد پھدی چٹوا رہی تھی اس لیے چاٹنے کے 2 منٹ بعد ہی پھدی نے پانی چھوڑ دیا جو میں چاٹ لیا..پانی چاٹ کر ایسا نشہ ہوا کہہ میں ارم کی پھدی انگلی سے مسلنی شروع کی اور تیز تیز انگلی مسلتے ہوۓ میری انگلی ارم کی پھدی کی چھوٹی سی موری میں چلی گئی اور موری میں انگلی جاتے ہی ارم یک دم آہ کیا اور میں انگلی نکال لی اور پھر میں ارم کی پھدی میں لن رگڑنا شروع کیا. ارم کی پھدی کی موری بہت ٹائیٹ تھی اسی لیے انگلی جاتے ہی ارم کو درد ہوئی لیکن وہ اپنے بھائی کے نیچے سے ہلی نہیں.ہاہاہاہاہا..آج ارم کی پھدی سے بالصفا پاؤڈر اور پھدی کی خوشبو مکس ہو کر آرہی تھی جو میرے لن کو مزید ٹائٹ کر رہی تھی...میں ارم کی گانڈ کی موری سے لیکر ارم کی پھدی کی موری تک لن رگڑ رہا تھا اور ہر دفعہ جب بھی لن ارم کی گانڈ کی موری پر جاتا ارم پیچھے کو زور لگاتی لیکن میں موقع دیکھ ک اندر ڈالنا تھا سو لن رگڑتا رہا اور اپنی سگی بہن کی کنواری چوت اور گانڈ کی لائن میں پانی نکالا اور اٹھ گیا اور اٹھتے ہوئے ارم کے کان میں کہا کہہ واش کر کے آنا پچھلی دفعہ امی کو شک ہو گیا تھا...ارم بعد میں آئی تو آج ارم کی شلوار گیلی نہیں تھی..وہ سب سمجھتی تھی اور جانتی بھی تھی اور کرتی بھی تھی لیکن بھائی کے لن کے نیچے ہی رہیتی تھی..
اگلے پارٹ میں بتاؤں گا کیسے ارم کی پھدی میں پوری انگلی ڈالی اور گانڈ میں بھی آدھی انگلی ڈالی..

اب امی نے جو بچہ پیدا کیا تھا وہ بڑا ہو گیا تھا اور امی دوبارہ سکول جانا شروع ہوگئی تھی.
جب سے ارم کی پھودی میں میری آدھی انگلی گئی تھی تب سے میرا دل کر رہا تھا دوبارہ پوری انگلی ارم کی پھودی میں ڈالنےکوکیونکہ پہلے میں اپنی بہن کی پھودی میں صرف لن رگڑتا تھا لیکن جب میں نے ارم کی پھودی میں انگلی ڈالی تو  پھدی اندر سے ٹائٹ تھی لیکن بہت نرم تھی جس وجہ سے مجھے ایک الگ مزے کا احساس ہو رہا تھاتبھی میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ ارم کی پھدی اور گانڈ کے اندر انگلیاں ڈالیں جائیں کیونکہ ارم ابھی لن بردارشت نہیں کر سکتی تھی.کچھ دنوں بعد مجھے رات کے وقت موقع مل گیا جب سب سوئے ہوئے تھے اور ہم بھی امی والے کمرے میں ہی سوئے ہوئے تھے.ارم میری ساتھ والی چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی اور امی بچے کو اپنا دودھ پلا رہے تھی.میں نے امی کے بچہ پیدا کرنے سے پہلے کبھی بھی امی کے دودھ نہیں دیکھے تھے 
میری امی کے دودھ 36 سائز کے تھے تقریباً  اور نپل گول اور زیادہ موٹے نہیں تھے جوبچہ منہ میں لے کے بہت مزے سے چوستا تھا اور اسے چوستا ہوا دیکھ کر میرا لن کھڑا ہو جاتا تھا.امی نے بچے کو دودھ پلایا اور لائٹ آف کی اور سونے کے لئے لیٹ گئی. میں اور ارم باتیں کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ میں بہانے بہانے سے کبھی ارم کی ٹانگ پرہاتھ پھیرتا اور کبھی گانڈ پر پھیرتا اور وہ اس کو نظرانداز کرتی اور مجھ سے باتیں کرتی رہی پھر اچانک ارم باتیں کرتی کرتی رک گی میں نے دو تین دفعہ آواز دی لیکن وہ نہ بولی میں سمجھ گیا کہ ارم اب بالکل تیار ہے.میں ارم کی شلوار نیچے کی اور ارم کی گانڈ کو چومنا شروع کر دیا.ارم کی گانڈ کو تھوڑی دیر چومنے کے بعد میں اس کی لائن میں زبان پھیرنا شروع کر دی اور ایک ہاتھ سے ارم کی پھودی کی لائن مسلنا شروع کر دی.تھوڑی دیر ارم کی گانڈ چاٹنے اور پھدی مسلنے پر ارم کی پھدی نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا. ارم کی گیلی پھدی میں انگلی مسلنے سے جب بھی میری انگلی موری پرجاتی میں انگلی کا ایک سٹیپ  موری میں ڈال دیتا جسے ارم آرام سے برداشت کر رہی تھی.اب میں نے ارم کے کان میں سیدھی لیٹنے کو کہا تو ارم سیدھی ہو کر لیٹ گئی اور میں نے اس کی ٹانگیں کھول کر اس کی پھدی چاٹنی شروع کردی. جب میری زبان موری بن جاتی تو گیلی اور نمکین پانی والی موری چاٹنے کا مزہ آجاتا. کافی دیر ارم کی پھودی چاٹنے کے بعد میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کی قمیص کے نیچے سے اس کے دودھ تک لے گیا.ارم کے دودھ امی کی نسبت بہت چھوٹے ہیں اور ابھی ارم نے برا پہنی شروع نہیں کی تھی. ارم کے دودھ کے نپل بلکل چھوٹے تھے ان کو میں اپنی انگلیوں سے مسل رہا تھا اور ساتھ اس کی پھدی چاٹ رہا تھامجھے ارم کی بیچینی کا اندازہ ہو رہا تھا. میں ارم کی ٹانگیں تھوڑی اور کھولیں اور ارم کی پھدی میں دوبارہ انگلی مسلنا شروع کردی اور اس کی موری میں آہستہ آہستہ انگلی ڈالنا شروع کر دی اور ارم کی پھودی گیلی ہونے کی وجہ سے ہے انگلی پوری آرام سے پھدی کی موری کے اندر تک چلی گئی. اب میں اپنی سگی بہن کی پھودی میں انگلی سے آرام آرام سے جھٹکے ماررہا تھا اور اس کے پیٹ پر کس کر رہا تھا.پھر میں نے ارم کی پھودی میں انگلی کے جھٹکوں کی سپیڈ بڑھا دی اور اس دوران ارم نے اپنی ٹانگیں تھوڑی تھوڑی اکٹھی کرنا شروع کر دیں.ارم کی ٹانگیں اکٹھی کرنے سے مجھے لگا شاید اسے درد ہورہی ہیں لیکن ساتھ ہی ارم نے بہت سارا کرم گرم پانی موری سے چھوڑنا شروع کر دیا تو مجھے سمجھ آئی کہ وہ اپنی ٹانگیں مزے لے کر اکٹھا کر رہی تھی پانی نکالنے کے لیے...ارم کے پانی چھوڑنے کی وجہ سے پھودی میں انگلی کے جھٹکوں سے آواز آنا شروع ہوگئی جس کی وجہ سے میں انگلی باہر نکال دی تا کہ امی جھٹکوں کی آواز ان کر اٹھ نہ جائیں اور پھدی دوبارہ چاٹنا شروع کر دی اور ارم کی پھودی کا سارا پانی دوبارہ چاٹنے کے بعد ارم کے کان میں دوبارہ کہا کہ کروٹ لے کر لیٹو. ارم تھوڑی دیر میں کروٹ لے کر لیٹ گئی.ارم کی گانڈ کی  موری بہت ٹائیٹ تھی.میں نے ارم کی ٹانگیں اکٹھی کی جس سے گانڈکی لائن کھل گئی اس کے بعد میرے کافی سارا تھوک ارم کی موری پے لگایااور گانڈ کی موری میں انگلی ڈالنے کی کوشش کی لیکن ارم نے موری ٹائٹ کرلی شائد ارم سمجھ چکی تھی کہ بھائی اب میری گانڈ میں ڈالناچاہتے ہیں.ارم کی گانڈ کی موری پر انگلی رکھ کر تھوڑا سا جھٹکا دیاتو آدھی انگلی ارم کی گانڈ میں چلی گئی اور انگلی اندر جاتے ہی ارم کے منہ سے چیخ نکل گئی اور ارم نے گانڈ ٹائٹ کر لی.میں جلدی انگلی باہر نکالی لیکن ارم کے چیخ مارنے سے امی اٹھ گئی اور انہوں نے آواز دے کر پوچھا ارم کیا ہوا تو ارم کہتی کچھ نہیں خواب میں ڈر گئی ہوں. امی جو کہ چار بچے پیدا کر چکی تھی سب سمجھ گئی کہ ارم کی یہ چیخ ڈر کی نہیں بلکہ درد کی تھی اس لئے انہوں نے مجھے بھی آواز دی لیکن میں چپ رہا اور یہی شو کروایا کہ میں سو رہا ہوں.ارم کے اس طرح بات بدلنے سے کنفرم ہو گیا کہ ارم اپنے بھائی کے نیچے کتنا خوش ہے. امی کے چپ ہونے کے تھوری دیربعد میں ارم کے کان میں کہا کہ میں تیل لے کے آتا ہوں اس سے درد نہیں ہوگی اگر تم راضی ہو تو شلوار اوپر مت کرنا.میں تیل لے کر واپس آیا تو ارم نے شلوار اوپر نہیں تھی کی جسکا مطلب تھا کہ ارم چاہتی کہ بھائی اس کی گانڈ کی موری میں بھی اپنی انگلی ڈالیں.میں ارم کی گانڈ کی موری میں کافی تیل لگانے کے بعد اپنی انگلی پر کافی تیل لگایا اور ارم کی موری میں ڈالنی شروع کی ابھی آدھی انگلی اندر گئی تو ارم نے اپنی گانڈ ٹائٹ کر لی لیکن اس دفعہ میں انگلی باہر نہیں نکالی اور ارم کے کان میں کہا کہ چیخ مت مارنا میں پوری اندر ڈالنے لگا ہوں اور میں ارم کے دائیں ہاتھ میں اپنا لنڈ پکڑایا اور ارم کی گانڈمیں پوری انگلی ڈالی تو ارم نے میرے لنڈ کو زور سے دبایا جس سے پتہ چلتا تھا کہ ارم کو پوری انگلی لیتے وقت درد ہو رہی ہے اب ارم نے میرے لن کو زور سے دبایا ہوا تھا اور میں اپنی سگی بہن کی گانڈ میں انگلی کے جھٹکے مار رہا تھا.مجھے اتنا مزہ آرہا تھا کہ ارم کی گانڈ میں انگلی کے جھٹکے مارنے اور ارم کے میرے لنڈ کو دبانے سے میں ارم کے ہاتھ کے اندر ہی لنڈ کا پانی نکال دیا.اب میں لن کا پانی نکالنے کے بعد ارم کی گانڈ ننگی چھوڑ کر اٹھ گیا.لیکن ارم اپنا لن کے پانی والا ہاتھ صاف کرنے کے لیے نہیں اٹھی شاید وہ میرا پانی اپنے ہاتھ سے چاٹ گئی.صبح ارم اٹھ کر اچھے موڈ سے مجھے ملیں اور اسکول چلی گئی..
دوستو اگلے پارٹ میں میں آپ کو بتاؤں گا کہ کیسے میں اپنی بہن کی گانڈ میں لن کی ٹوپی ڈالی اور اس کی زور سے ماری ہوئی چیخ سے پکڑا گی. 

 ارم نے امی کا ننگا جسم دودھ مجھے دکھائے اس کے بعد مجھے کنفرم ہوگیا کہ اب ارم لن لینے کے لیے بالکل تیار ہے اور وہ لن برداشت کر سکتی ہے.ویسے بھی ارم اپنی گانڈ کی موری میں لن لگتے ہیں پیچھے کو زور لگاتی ہیں تو میرا بہت دل کرتا ہے کہ اس دفعہ اس کی گانڈ میں لن ڈال دوں. ارم کے مینسز ختم ہونے کے کچھ دن بعد تقریبا دس دن بعد رات کو سوئے ہوئے میں ارم کے جسم پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا جس سے ارم اٹھ گئی لیکن تھوڑا سا ہل کر پھر لیٹی رہی.مجھے یاد تھا کہ ارم کی گانڈ میں انگلی ڈالنے سے درد میں ہوئی تھی اس لیے میں اس دفعہ تیل اپنے ساتھ لے کر آیا تھالیکن اس دفعہ ارم کی گانڈ میں انگلی نہیں لن ڈالنا تھا.سب سوئے یوئے تھے. ارم ہاتھ پھیرنے سے اٹھ گئی اور میں اس کی شلوار نیچے کر لی تقریبا ٹانگوں کے اینڈ تک اور ارم کی قمیض اس کے دودھ تک اوپر کرکے اس کے پیٹ پر ہلکا ہلکا ہاتھ پھیرنے لگا اور ارم کے بازوؤں کے نیچے والی جگہ سونگھنے  لگا وہاں کی خوشبو مجھے بہت پیاری لگ رہی تھی. اب میں ارم کے بازو کے نیچے اپنی زبان پھیر رہا تھا اور ساتھ اپنے ہاتھ سے ارم کے پیٹ اور پٹوں کو مسل رہا تھا ارم کی پھودی پر بال تھے.پھر میں نے ارم کی پھودی کے بال مسلتے ہوئے میں اپنی بہن کے دودھ کے نپلز منہ میں ڈال کر چوسنا شروع کر دیے. اب میں ارم کا ایک دودھ چوس رہا تھا اور دوسرے دودھ کا نپل اپنے ہاتھ سے مسل رہا تھا.میں نے ارم کے دودھ پینے کے دوران ارم کے کان میں بتا دیا تھا کہ آج میں اس کی گانڈ میں لن ڈالوں گا اس لئے تھوڑا درد برداشت کرنا.
اپنی بہن کے دودھ چوسنے کے بعد اب میں اپنی بہن کا پیٹ چوم رہا تھا اور اپنی بہن کی کنواری پھدی کے لمبے لمبے بال مسلسل رہا تھا اور اپنی بہن کی ٹانگوں پر ہاتھ پھیر رہا تھا.ارم بالکل سیدھی لیٹی ہوئی تھی میں ارم کی ٹانگیں تھوڑی اوپر کرکے سائیڈوں پر پھیلا  دی اس سے میری بہن کی کنواری پھدی بلکل واضع کھل گئی اور ارم کی پھدی کی لائن میں آرام سے میری دو انگلیاں پھرنے لگی.تھوڑی دیر اپنی بہن کی پھودی مسلنے کے بعد اپنی بڑی انگلی اپنی سگی بہن کی ٹائٹ موری میں ڈال دی اور جٹکے مارنے لگا اور ساتھ ارم کی پھودی میں زبان سے ارم کی پھدی کا چھوڑا ہوا گرم گرم لیس دار پانی چاٹنے لگا.تقریبا دس منٹ اپنی بہن کی پھودی اور پانی چاٹنے کے بعد میں ارم کے کان میں الٹی ہونے کو کہا.ارم کو میں سجدہ والی پوزیشن میں کر کے کھلی گانڈ کی موری میں لن مسلنے لگا اور ارم کی گانڈ کی موری میں اپنا تھوک لگا کر چاٹنے لگا اور ساتھ ارم کی پھدی کا پانی انگلی پر لگا کر اپنے لن پر لگایا.
اپنی بہن کی کنواری پھدی کا لیس دار پانی اپنے لن پر لگاتے ہی میرا لن جٹکے کھانے لگا اور پانی کے قطرے نکلانے لگا جو میں ارم کی گانڈ کی موری پر لگا دیے..اب میری بہن کی گانڈ کی موری پر میرا تھوک اور ارم کی اپنی پھدی کا لیس دار پانی اور میرے لن کا پانی لگا ہوا تھا جس سے ارم کی گانڈ کی موری بہت چکنی ہو چکی تھی...میں ارم کی گانڈ کی موری میں ایک انگلی ڈالی جو ارم نے درد محسوس کروا کر اندر جانے دی پھر میں انگلی سے اپنی بہن کی گانڈ چودنے لگا..اور جب مجھے لگا ارم لن کے لیے تیار ہے تب میں ارم کی گانڈ کی موری میں کافی تیل لگایا جس سے انگلی آرام سے اندر باہر ہونے لگی تب میں ارم کی ٹانگیں سیدھی کر دی اور ارم کو الٹی کر دیا..کیونکہ میں اپنی بہن کو الٹی لٹا کر اوپر لیٹ کر لن ڈالنا چاہتا تھا تا کہ میرا پورا وزن ارم پر ہو اور  جب میرا لن میری سگی بہن کی گانڈ کی سیل توڑے تو میری بہن درد سے ہل نہ سکے..پھر میں اپنے لن پر کافی تیل لگایا اور ارم کی گانڈ کھول کر موری پر لن کی ٹوپی رکھ کر مسلنے لگا..کافی مسلنے کے بعد ارم نے اپنی گانڈ کی موری کھولنی اور بند کرنی شروع کر دی اور یہی اشارہ تھا کہ ارم اب لن لینا چاہتی ہے..پھرمیں ارم کی گانڈ کی موری پر لن کی ٹوپی رکھ کر اس پر لیٹ گیا اور وزن ڈالنے لگا اور میرے وزن سے میرا لن میری بہن کے اندر جانے لگا..لن کی ٹوپی گانڈ کی موری میں جاتے ہی ارم نے آہاآہاآہاآہاآہاآہا آہاآہاآہاآہاآہاآہا کر کے بند آواز میں کراہنا شروع کر دیا لیکن میں رکا نہیں اور پروا وزن ڈال دیا اور تیل لگنے کی وجہ سے میرا پورا لن ارم کی گانڈ میں اتر گیا اور ارم نے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی ہاۓےےےےےے امی جیییییییییییییی....... اور ارم رونے لگی..چیخ نکلتے ہی میں لن باہر نکال کر شلوار اوپر کر کے اپنے بستر پر لیٹ گیا لیکن امی اٹھ کر ارم کو اوز دی کہہ ارم کیا ہوا تو ارم نے کہا امی کچھ نہیں لیکن ارم کی آواز درد اور رونے کی وجہ سے کانپ رہی تھی تو امی اٹھ کر ارم کے پاس آئی اور پوچھا کیا ہوا تو ارم نے پھر کہا کچھ نہیں تو امی کہتے رو کیوں رہی ہو پھر تو ارم کہتی ویسے خواب میں ڈر گئی تھی..لیکن امی پوری تجربہ کار تھی جلدی سے ارم کی شلوار نیچے کی تو ارم کی گانڈ میں بہت سارہ تیل لگا دیکھ کر سمجھ گئی کہہ اس کا بھائی اس کی گانڈ مار رہا تھا لیکن ارم سے کہا یہ کیا ہے..لیکن ارم چپ رہی.مجھے بھی آواز دی لیکن میں چپ رہا.پھر امی غصے سے ارم کو کہا اس بارے میں صبح بات کروں گی تم دونوں سے.اور سونے چلی گئی...میں بھی لن صاف کیا اور سو گیا. 
 
اگلے دن امی نے مجھے اور ارم کو کمرے میں بلایا اور میرے سامنے ہی ارم سے پوچھا بتاؤ رات کو کیا ہوا تھا تو ارم بولی امی کچھ بھی نہیں ہوا میں خواب میں ڈر گئی تھی امی نے کہا مجھے بچی مت سمجھو میں نے چار بچے پیدا کیے ہیں میں سب سمجھتی ہوں کہ ڈر کی چیخ کیسی ہوتی ہے اور درد کی چیخ کیسی ہوتی ہے.ارم نے کہا امی بھائی کو کیوں بلایا ہے بھائی آپ باہر جاؤ امی کو کہا میں آپ کو بتاتی ہوں کیا ہوا تھا.میرے باہر جاتے ہی امی نے ارم سے کھل کر پوچھا کہ اگر تیری چیخ درد سے نہیں نکلی تو تمہاری گانڈ میں تیل کیوں لگا ہوا تھا. ارم نے کہا امی میری گانڈ میں تیل لگنے کا درد سے اور بھائی سے کیا تعلق ہے کہیں آپ اس لئے بھائی کو اندر تو نہیں تھا بلوایا کہ آپ یہ سوچ رہی ہیں کہ کہیں بھائی میری گانڈ مار رہا تھا اس لئے میں چیخی.تو امی آگے سے ہنس کر کہا مجھے تو یہی شک ہوا تھا پھر ارم نے کہا امی آپ کیسے سوچ سکتی ہیں کہ بھائی اپنی بہن کی گانڈ مار سکتا ہے اس دن آپ نے کہا تھا بھائی اب جوان ہو گیا ہے وہ آپ کی پھدی نہیں دیکھ سکتا تو وہی بھائی ایک جوان بہن کے اندر کیسے لن ڈال سکتا ہے.تو امی نے کہا پھر تیری گانڈ میں تیل کیوں لگا ہوا تھا تو ارم نے کہا ضروری نہیں کہ بھائی گانڈ مارے تب ہی تیل لگا سکتی ہوں میں.مجھے گانڈ میں خارش تھی اس لیے تیل لگایا تھا.پھر امی چپ ہو گئ تو ارم نے کہا امی فرض کریں اگر بھائی کا لن میرے اندر جا سکتا ہے تو آپ کے اندر بھی تو جا سکتا ہے امی اسے ڈانٹ کر کہا چپ کر ماں کی بارے میں ایسا سوچتی ہوں کبھی ماں کی پھدی میں بیٹے کا لن جاتے دیکھا ہے تو پھر ارم نے کہا تو آپ نے کھبی بھائی کا لن بہن میں جاتے دیکھا ہے لیکن اگر بھائی کا لن بہن کے اندر جا سکتا ہے تو ماں کی پھدی باقی پھدیوں کی طرح ہے اس میں بھی تو بیٹے کا لن جا سکتا ہے نا..تب امی نے ہنس کر کہا کاش جب میں تیری شلوار نیچے کر کے تیری گانڈ دیکھی اس وقت تیرے بھائی کو بھی چیک کرتی تو ارم نے کہا امی آپ بھائی کی شلوار نیچے کرتی تو بھائی کا لن دیکھ کر شرم نہ آتی آپ کو.؟؟.ہاہاہاہا.امی نے کہا ارم چپ کرو تمہارا بھائی میری پھدی سے نکلا ہے اور اپنی پھدی سے نکلوانے والے بچے کا لن میں دیکھ سکتی ہوں..
تب ارم نے کہا امی یہ نا انصافی ہے کہ اپنی پھدی سے نکلوانے والے بچے کا لن تو آپ دیکھ سکتی ہیں لیکن دوسری طرف یہی کہتی ہے کہ بھائی آپ کی پھدی سے نکلے ہیں لیکن وہ آپ کی پھدی نہیں دیکھ سکتے اور ہنسنے لگی ہاہاہاہاہاہاہاہا.اس ساری گفتگو کے دوران ارم مجھے کافی دفعہ کھڑکی میں کھڑا دیکھ چکی تھی پھر ارم نے امی سے کہا امی آج رات میں دوبارہ اپنی گانڈ میں تیل لگانا ہے کیوں کہ میری خارش ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اس لیے آج شک مت کرنا اگر میں چیخ بھی پڑی تب بھی نہیں مجھے خواب میں رات کو بھی ڈر لگا تھا.ارم کے منہ سے یہ سنتے ہی میں سمجھ گیا کہ میری بہن آج رات پھر میرے لن کے نیچے آنا چاہتی ہے اور اپنی گانڈ میں میرا لن جڑ تک کرلینا چاہتی ہے.رات کو سب کے سونے کے بعد میں ارم کی چارپائی پر گیا ارم کروٹ لے کر لیٹی ہوئی تھی میں جاتے ہیں اپنی بہن کی شلوار نیچے کر کے اس کی کنواری گانڈ ننگی کردی اور ٹائم ضائع کیے بغیر اپنی بہن ارم کی گانڈ کی موری چاٹنی شروع کر دی.اور آج مجھے یقین تھا کے ارم روۓ گی نہیں کیوں کہ میری بہن کی گانڈ کی سیل رات کی ٹوٹ چکی تھی.اب میں اپنے لن پر ٹوپی سے لے کر ٹٹوں تک تیل لگایا اور ارم کی گانڈ کی لائن سے لے کر پھدی کی لائن تک لن مسلنے لگا.میرے لن مسلنے کے تھوڑی ہی دیر میں میری بہن کی کنواری پھدی سے گرم اور لیس دار پانی نکلنا شروع ہو گیا.اپنی بہن کا گرم اور لیس دار پانی میرے لن پر لگتے ہی میرا لن اور بھی ٹائیٹ ہو گیا اور اپنی بہن کے اندر جانے کے لیے جٹکے مارنے لگا پھر میں کافی تیل ارم کی گانڈ کی موری پر لگایا اور اپنی انگلیوں پر تیل لگا کر ارم کی گانڈ میں انگلی مارنا شروع کر دی.کافی دیر انگلیوں سے اپنی بہن کی گانڈ چودنے کے بعد جب مجھے محسوس ہوا کہ اب میری بہن لن لینے کے لیے بالکل تیار ہے تب میں ارم کو الٹا کیا اور اس کے اوپر الٹا لیٹ گیا اور اپنے لن کی ٹوپی ارم کی گانڈکی موری پرسیٹ کی.اب ارم کو پتہ چل چکا تھا کہ اب کچھ ہی سیکنڈ میں میرے سگے بھائی کا لن میرے اندر جانے والا ہے تو ارم نے اپنی گانڈ کی موری نرم کردی.جونہی ارم نے اپنی گانڈ کی موری نرم کی میرے اوپر وزن ڈالنے سے میرے لن کی ٹوپی ارم کی گانڈ میں پھسل کر چلی گئی اور ٹوپی اندر جاتے ہی ارم نے گانڈ  کی موری ٹائٹ کرلی اور منہ سے آہ آہ آہ آہ نکلنے لگی لیکن دبی ہوئی آواز میں شائد منہ میں کپڑا لیا ہوا تھا.لیکن میں اپنی بہن کے گانڈ کی موری کو ٹائٹ کرنے کی پرواہ کیے بغیر پورا زور لگایا اور اپنا پورا لن اپنی سگی بہن کی گانڈ کی موری میں آخر تک ڈال دیا یہاں تک کے میرے لن کے ٹٹے ارم کی گانڈ کی لائن پر ٹکرانے لگے.جب میرا پورا لن میری بہن کی گانڈ میں جا رہا تھا تو میں اپنی بہن کے رونے کی آواز دبی ہوئی محسوس کر رہا تھا کہ جیسے ارم منہ میں کپڑا لے کر رو رہی ہو.لیکن میں ارم کے رونے کی پرواہ کیے بغیر ارم کی گانڈ میں جھٹکے مارنے شروع کر دیے. میں پورا لن ارم کی گانڈ سے باہر نکالتا اور ایک ہی جھٹکے میں اندر ڈال دیتا. کافی دیر تک اسی پوز میں اپنی بہن کی گانڈ چودنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ آرم کو درد ہو رہی ہے پھر میں اپنے لن کا پانی اپنی بہن کی گانڈ کے اندر پہلی دفعہ نکالا اور اپنا لن باہر نکال کے ارم کی شلوار اوپر کی اور اپنی چارپائی پر لیٹ گیا.پھر میں اپنا لن صاف کیا اور سونے کی تیاری کرنے لگا لیکن ارم آرام سے لیٹی رہی اپنی گانڈ کے اندر تیل اور میرے لن کا پانی لئے ہوئے.. صبح ارم اٹھی تو امی نے اسے سکول جانے کے لیے کہا تو ارم نے کہا میری طبیعت ٹھیک نہیں اور ارم بیٹھتے ہوئے اور چلتے ہوئے درد محسوس کر رہی تھی جو کہ امی بالکل سمجھ گئی کیونکہ میری امی نے اپنی پھدی سے چار بچے نکلوائے تھے وہ سب سمجھتی تھی کہ عورت چدوانے کے بعد کیسا محسوس کرتی ہیں.امی پورا سمجھ گئی تھی کہہ رات کو ارم کے بھائی نے اس کو ٹھیک ٹھاک چودا ہے اس لئے امی ارم کے پاس ہو کر آہستہ آواز میں کہنے لگی کہ چلو طبیعت نہیں ٹھیک لیکن مجھے لگتا ہے کہ تمہاری گانڈ کی خارش ٹھیک ہو چکی ہے اب تمہیں تیل لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ارم چپ کرکے لیٹی رہی.
[11/3, 4:13 PM] +92 317 6162559: """ Yum stories """"
 شوہر کا دوست

مکمل

B.H

آج میں آپ کو اپنے ایک عاشق کے بارے میں بتانے جا رہی ہوں۔  دراصل یہ پاگل دوست میرے شوہر کا دوست ہے، بہت پرانا دوست ہے، اس کا ہماری شادی سے ہمارے گھر آنا جانا ہے۔  اب میں آپ کو کہانی سناتی ہوں کہ میرا اور اس کا رشتہ کیسے بنا

یہ ہماری شادی کے وقت کی بات ہے، جب میں شادی کر کے اپنے شوہر کے گھر آئی تھی، تب سے میں ارشد کو دیکھ رہی تھی، جو میرے شوہر کے بہترین دوست تھے۔  ہر کام میں ہوشیار، ہر کام جلدی کرتے تھے۔  دیکھنے میں بہت اچھا تھا، قد و قامت سب میں خوبصورت تھا۔
شادی کے کچھ دن بعد جب ہم سہاگ رات گئے تو میں نے باتوں باتوں میں اپنے شوہر سے پوچھا- اس ارشد نے شادی نہیں کی؟
تو میرے شوہر نے  بتایا کہ وہ ایک لڑکی سے بہت پیار کرتے ہیں، اس سے شادی بھی کرنا چاہتے ہیں، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر ان کی شادی نہ ہوسکی، جس کے بعد سے وہ علیحدگی میں ہے۔  درحقیقت ارشد بہت پیار کرنے والا، خیال رکھنے والا انسان ہے لیکن اس بیچارے کا دل اتنا ٹوٹا ہوا ہے کہ اب وہ کسی لڑکی کے پاس بھی نہیں جاتا اور نہ ہی کسی کو قریب آنے دیتا ہے۔  نہ کوئی گرل فرینڈ، نہ شادی۔  وہ صرف اپنی محبت کی یاد میں جیتا ہے۔
مجھے ارشد کے لیے بڑی ہمدردی محسوس ہوئی۔  جب ہم سہاگ رات سے واپس آئے تو آہستہ آہستہ میری بھی ارشد سے اچھی دوستی ہو گئی۔  اور درحقیقت ارشد بھی بہت اچھا دوست تھا۔  ایک ایسا دوست جس پر آپ آنکھیں بند کر کے بھروسہ کر سکتے ہیں۔  میں بھی اس کے ساتھ کئی بار بازار گی تو میں نے دیکھا کہ وہ میرا بہت خیال رکھتے تھے۔  یہاں تک کہ میرے شوہر بھی اسے مکمل طور پر  اعتبار کرتے تھے۔
میں نے یہ بھی دیکھا کہ اس کی نظر میلی نہیں تھی۔  اس نے کبھی میرے چہرے یا جسم کو گھورنے جیسا کوئی کام نہیں کیا،  چھونا تو دور کی بات ہے۔

شادی کے بعد لوگ ایک سے دو ہوتے ہیں لیکن ہم ایک سے تین ہو گئے ہیں۔  اسے اتنی آزادی تھی کہ وہ جب چاہتا ہمارے بیڈ روم میں آتا تھا۔  میں اکثر نائٹ ڈریس  میں ہوتی تھی، مجھے کبھی کوئی شرم یا پریشانی نہیں ہوئی کیونکہ ارشد کبھی میرے جسم کو نہیں گھورتا تھا۔
ہاں میں اتنا خیال رکھتی تھی کہ اسے میرے بدن کے  ننگے حصے نظر نہ آئے۔
اب میرے شوہر صبح جاتے اور رات کو آتے، جب ارشد کا اپنا دل کرتا یا میرا دل  کرتا تو میں اسے  بلا لیتی۔  نہ جانے کیوں مجھے لگنے لگا کہ ارشد میرے دل میں میرے شوہر سے زیادہ جگہ بنا رہا ہے۔  مجھے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے سے زیادہ اس کے ساتھ رہنا پسند تھا، میں نے بھی اس کے سامنے کھلنا شروع کر دیا۔
ہمارے گھر میں میرے شوہر اور میں ہی رہتے تھے۔ اور ہم دونوں کافی ماڈل تھے، اس لیے میرا شوہر اور ارشد بیئر یا وائن پیتے تھے، میں بھی پیتی تھی۔  ہاں، میں وہسکی نہیں پیتی۔  لیکن بیئر میں بھی ہلکا سا نشہ ہے۔  ہم نے کئی بار بیئر پیی اور آپس میں بہت باتیں کیں، چہچہانا، اتنی گپ شپ کی، اس کی کوئی انتہا نہیں۔
بات چیت بھی بڑھتے ہوئے  سیکس کی طرف بڑھی۔
میں نے صاف صاف پوچھا- تم شادی کر لو، تمہاری زندگی سیٹ ہو جائے گی، تم کہاں ادھر ادھر گندگی میں گھومتے ہو؟
اس نے کہا- نہیں سما، نیلم کے جانے نے مجھے اتنا خالی کر دیا ہے کہ اسے بھرنے میں بہت وقت لگے گا، ہاں تم نے کہا تھا کہ شادی کر لو،  میں پھر بھی تم سے بات کرنا نہیں چھوڑوں گا، میں شادی کروں گا، لیکن ابھی نہیں۔  ابھی میری عمر صرف 26 سال ہے، مجھے 2-4 سال مزید  چاہیے، پھر شادی کرلوں گا۔
میں نے بیئر کا ایک گھونٹ لیا اور کہا - بھائی، کیا آپ کو رنڈوا   رہنا پسند ہے؟
اس نے کہا- ارے یار، رنڈوا کا مطلب ہے۔وہ اپنی مرضی سے سوتا ہے، اپنی مرضی سے اٹھنا، کسی پر کوئی پابندی نہیں، سب کام اپنی مرضی سے کرو۔  باقی جسم کے لیے جس چیز کی ضرورت ہو، وہ کہیں سے بھی مل  جائے گی۔

میں نے کہا- تم نمبر ون کتے  ہو، جو ہر جگہ سونگھتے ہیں۔

اس نے کہا - ٹھیک ہے، کیا میں کتا ہوں؟  کوئی بات نہیں،  تمہارے شوہر کو آنے دو، میں اسے کہوں گا، آج  تمہیں کتیا بنا دۓ!
نہ جانے کیوں میرے منہ سے نکلا - تم کیوں نہیں بنا سکتے؟
وہ میری بات سن کر دنگ رہ گیا اور میں بھی دنگ رہ گی!
میں نے کیا کہا ہے؟  یہاں تک کہ میں نے اسے براہ راست  سیکسی تعلق کی دعوت دی۔
میں ایک مشکل میں تھی کہ اگر وہ اس وقت غصے میں اٹھ کر مجھے پکڑ لے تو کیا ہو گا۔  اگر ہم جنسی تعلق رکھتے ہیں، تو کیا وہ میرا اتنا اچھا دوست b کر سکتی ہوں؟
میں نے خود کو باتھ روم میں بند کر لیا اور وہ چلا گیا۔
اس کے بعد وہ 2 دن تک ہمارے گھر نہیں آیا۔  پھر میرے شوہر نے اسے بلایا ۔  وہ آیا، لیکن ہم دونوں ایک دوسرے سے راضی نہیں تھے۔  صرف ہلکی پھلکی گفتگو تھی۔   میرا شوہر اس  بارے میں نہیں جانتا تھا لیکن میں خود بہت شرمندہ تھا۔
اگلے دن میں نے سوچا کہ یار، میں نے جو بھی بکواس کی ہے، مجھے اپنے دوست سے معافی مانگنی چاہیے۔
میں نے ارشد کو فون پر بلایا، وہ تھوڑی دیر میں آگیا۔  تھوڑی سی رسمی گپ شپ کے بعد چائے پیتے ہوئے میں نے کہا- 
ارشد یار، اس دن کے لیے معذرت، مجھے نہیں معلوم کہ جب میں نشے میں ہو تی ہو تو کیا کہوں، حالانکہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، اتفاقاً میرے منہ سے نکل گیا۔  معذرت دوست۔
تو اس نے کہا- میں اس دن سے یہی سوچ رہا تھا، میں تمہیں بہت پسند کرتا ہوں، تم بہت اچھی دوست ہو، مجھے تم پر بہت اعتماد ہے، میں تم سے پیار کرتا ہوں۔  لیکن یار سچ پوچھو تو اس دن تم نے جو بھی کہا تھا لیکن تم نے میرے سوچنے کا انداز بدل دیا ہے۔  پچھلے دو دنوں میں تم ہمیشہ میرے ذہن میں بغیر کپڑوں کے آئی ہو۔  میں بہت کوشش کر رہا ہوں لیکن آپ کی یہ تصویر نہیں بدل  پا رہا۔  میں اب تمہیں تمہارے کپڑوں میں بھی نہیں دیکھ سکتا۔
میں سوچنے لگا 'اے ارے میں نے یہ کیا کر دیا ہے۔  ایک اچھے اچھے دوست کو کھو دیا۔

میں نے ارشد سے پوچھا- ارشد، تو کیا اب ہم اچھے دوست نہیں رہے؟
اس نے کہا - ہم آج بھی اچھے دوست ہیں، میں آج بھی تم سے اسی طرح پیار کرتا ہوں، لیکن یہ میری زندگی میں پہلی بار ہے کہ مجھے پچھلے دو دنوں میں ایک بار بھی نیلم یاد نہیں آئی۔  مجھے ایک بار بھی اس کے جانے کا افسوس نہیں ہوا۔  میں نے صرف آپ کو دیکھا، اور میری توجہ کہیں نہیں گئی۔  اب بتاؤ میں کیا کروں؟  تم نے ایک سیکنڈ میں نیلم کو میرے دل و دماغ سے نکال دیا اور تم خود اس کی جگہ بیٹھ گئی۔
میں نے حیران ہو کر کہا- کیا کہہ رہے ہو ارشد، میں تمہیں اپنا بہت اچھا دوست سمجھتی ہوں۔
لیکن ارشد نے کہا- بے شک تم میرے دوست ہو اور ہمیشہ رہو گی، لیکن آج میں تم سے کہنا چاہتا ہوں، میں تم سے محبت کرتا ہوں سما، چاہے تم مجھ سے پیار کرو یا نہ کرو۔  میں زندگی بھر تم سے محبت کروں گا، شادی کروں گا، لیکن محبت صرف تم سے، صرف تم سے اور کسی سے نہیں۔
یہ کہہ کر ارشد وہاں سے چلا گیا اور میں بیٹھ کر سوچنے لگی کہ یار یہ کیا نیا مسئلہ ہے، میری زندگی کا مسئلہ ہو گیا ہے۔
وقت گزرتا گیا، ارشد کا ہمارے گھر آنا جانا وہی رہا، وہی دوستی، وہی ہنسی مذاق۔  لیکن اب وہ سابقہ ​​دوست ارشد نہیں تھا، اب وہ صرف میرا دیوانہ ارشد تھا۔  میں نے اسے کئی بار سمجھایا لیکن وہ ہر بار مجھے تم سے پیار کرتا ہے کہہ کر خاموش کر دیتا۔
پھر میں نے بھی سوچا کہ چلو اس کے دماغ سے محبت کا بھوت اتار دیں۔  میں نے سوچا کہ اگر میں اس کی محبت کو قبول کرلوں تو پھر دیکھو وہ آگے کیا کرتا ہے۔
ایک دن اس سے بات کرتے ہوئے میں نے اس سے کہا- ارشد کیا تم مجھ سے پیار کرتے ہو؟

اس نے کہا - بہت، بہت، بہت سا.
میں نے کہا- تو میں بھی تم سے پیار کرنے لگی ہوں۔
اس نے کہا - ارے واہ کیا بات کر رہی ہو؟
میں نے سوچا کہ وہ خوشی سے مجھے چومے گا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔  اب میں نے محبت کا اظہار کیا ہے لیکن اس کے بعد میرے ذہن میں اور بھی بہت سے خیالات آنے لگے، میں نے سوچنا شروع کر دیا کہ اب جب وہ میرا بوائے فرینڈ بن گیا ہے تو مجھے بھی اپنی جوانی کا مزہ لینا چاہیے، لیکن ارشد میری طرح صرف دل سے پیار کر رہا تھا۔ میرے جسم کے ساتھ نہیں۔
میں آہستہ آہستہ اس کے سامنے کھلنے لگی، میں بڑی لاپرواہی سے اس کے سامنے جھک جاتی، وہ صرف ایک بار میری  قمیض یا ٹی شرٹ میں جھولتے میرے بڑے مموں کی طرف دیکھتا اور منہ موڑ لیتا۔
اگر کوئی اور مرد ہوتا تو دوسری بار خود میرے مموں کو رگڑتا لیکن وہ صرف باتیں کرتا، بہت باتیں کرتا لیکن اس نے مجھے کبھی ہاتھ تک نہیں لگایا۔
میں اتنا دیوانی ہو گی کہ ٹی شرٹ اور نیچے سے ٹی شرٹ پینٹی میں آ گئی اور ایک دن میں نے جان بوجھ کر نہاتے ہوئے اس سے تولیہ مانگا اور جب وہ تولیہ دینے آیا تو میں نے پورا دروازہ کھول کر دکھایا۔  میرا ننگا جسم.

لیکن اس نے صرف ایک بار میرا ننگا جسم دیکھا، تولیہ پکڑا اور واپس چلا گیا۔
میری گانڈ جل گئی۔  مجھے شروع سے ہی اپنی خوبصورتی اور جوانی پر بہت ناز رہا ہے اور اس نے مجھ جیسی خوبصورت اور جوان عورت کو ننگا کر دیا ہے۔
نہا کر باہر نکلی تو سیدھا ارشد کے پاس گیی، میں نے ارشد سے پوچھا، ایک بات بتاؤ، تمہیں کوئی کمزوری یا بیماری ہے؟
اس نے کہا- بالکل نہیں، میں کافی فٹ ہوں۔
تو میں نے پوچھا- پھر تم ایک خوبصورت اور ننگی عورت کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہو؟
اس نے کہا- دیکھ سما، میں تم سے پیار کرتا ہوں، تمہارے جسم سے نہیں، میں اپنے دماغ سے پیار کرتا ہوں۔  تم نے میری محبت کو قبول کیا، میرے لیے یہی کافی ہے، مجھے تم سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے۔

میں نے کہا - لیکن میں یہ چاہتی ہوں۔
اس نے کہا- بولو کیا چاہتی ہو؟
میں نے کہا- یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے، کوئی بچہ بھی بتا سکتا ہے، میں تم سے کیا چاہتی ہوں؟
اس نے کہا- دیکھو یار اگر تم چاہتی ہو کہ میں تمہارے ساتھ سیکس کروں تو میں ایسا نہیں کر سکتا، یہ میرے اصولوں کے خلاف ہے۔
میں نے غصے سے کہا-  تم تو  چوتیے ہو، اور کچھ نہیں، اور اپنے اصولوں کو گانڈ میں لے لو۔
اور میں اٹھ کر جانے لگی۔
تو اس نے مجھے  پکڑ کر دوبارہ اپنے پاس بٹھایا- دیکھو تم میری دوست ہو جو چاہو بتاؤ لیکن  میرا دل نہیں مانتا، تم بات کرو اور میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں، میں تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا۔ .
میں نے پہلے کچھ سوچا اور پھر کہا - میری ایک خواہش ہے، بہت دنوں سے، اگر تم اسے پوری کر سکو؟
اس نے خوشی سے کہا- تم  کہو تو سہی؟
میں نے کہا - یہ ہم دونوں کے درمیان ہونا چاہئے!
اس نے کہا - یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ مجھ پر بھروسہ کرو۔
میں نے کہا - میں نہیں کرتی

وہ جوش میں آ گیا اور بولا- ارے بھابھی بول رہا ہو؟
میں نے کہا- میں کسی مضبوط باڈی بلڈر کے ساتھ سیکس  کرنا چاہتی ہو، جس کا جسم مضبوط ہو، لمبا ہو، چوڑا ہو،  اور جس کا لنڈ بڑا ہو ۔
وہ پہلے میرا چہرہ دیکھتا رہا، پھر بولا، بس؟
میں نے کہا بس مطلب؟  کیا یہ کر سکتے ہو؟
اس نے کہا- میں بہت سے باڈی بلڈرز کو جانتا ہوں، میں پتہ لگا سکتا ہوں کہ کس کا لنڈ سب سے بڑا ہے۔
میں نے خوشی سے اس کے گال کو چوما۔  اس نے میری پیشانی کو بوسہ دیا اور چلا گیا۔
اگلے ہفتے اس کا فون آیا - ارے سما،  میں تمہارے لیے باڈی بلڈر لے آیا  ہوں؟
میں نے کہا کہاں؟
اس نے کہا- بس گھر سے نکلو!
میں نے جلدی سے کپڑے بدلے اور باہر نکل گی۔  ان کی گاڑی گھر سے تھوڑی دور کھڑی تھی، میں جا کر ان کی گاڑی میں بیٹھ گی۔
وہ بولا- بڑی سجاوٹ کے طور پر آئی ہے، شادی کرنے جا رہی ہو؟
میں نے کہا- نہیں، میں لڑکے کو دیکھنے جا رہی ہوں، اگر مجھے اچھا لگا تو میں براہ راست ہنی مون مناؤں گی۔
وہ ہنسا اور ہم باتیں کرتے کرتے ایک کنسائنمنٹ کے باہر پہنچ گئے، گاڑی پارکنگ میں رکھ کر وہ چلا گیا۔
10 منٹ کے بعد وہ آیا، اس کے ساتھ ایک بہت سخت آدمی بھی تھا۔ وہ حبشی ٹائپ کا تھا ۔  قد تقریباً 6 فٹ، بہت کالا اور بدصورت، بیل جیسا لمبا جسم۔
وہ آ کر گاڑی کے پیچھے بیٹھ گیا، میں سامنے بیٹھی تھی۔

ارشد بھی بیٹھ گیا اور بولا بولو لڑکا پسند آیا؟
میں نے کہا- ارے تم میرا دماغ سمجھ گئے ہو، میں نے کئی فلموں میں  حبشے کو بڑے بڑے اوزاروں کے ساتھ دیکھا تھا، پھر سوچتی تھی کہ حبشی  ٹائپ کا کوئی مل جائے تو کیا ہو گا، لیکن آج تم نے میرے دل کی خواہش پوری کر دی۔  اوپر سے اچھا ہے اصل بات اندر چھپی ہے
ارشد نے کہا- پھر جا کر بیٹھ کر چیک کرو۔
"واقعی؟"  میں نے پوچھا.
اور میں گاڑی سے نکل کر پچھلی سیٹ پر بیٹھ گی، اس نے مجھے ہیلو کہا، میں نے بھی اسے ہیلو کہا۔
میں نے اس سے انگریزی میں کہا - میرے دوست نے مجھے بتایا ہے کہ تمہاری پتلون میں کچھ چھپا ہوا ہے، جو مجھے ڈرا سکتا ہے؟
اس نے کہا - یقینا، میری بہت سی دوست میرے اوزار کی وجہ سے روتی ہیں، اور ہاتھ جوڑ کر مجھ سے رخصت ہونے کی التجا کرتی ہیں۔  لیکن میں کبھی کسی کو نہیں چھوڑتا۔  جو میرے پاس آتا، اس کی ماں چود کر رکھ دیتا ہوں۔
میں نے کہا - اوہ، پھر مجھے بھی ڈراو.
تھوڑا سا ایڈجسٹ کرتے ہوئے، اس نے اپنی پینٹ کے ہکس، بٹن اور  زیپ کو کھولا اور اپنی جینز کو گھٹنوں تک نیچے کر لیا۔  مجھے ایسا لگا جیسے اس کے تنے میں کھیرا یا مولی رکھی ہوئی ہو۔
میں واقعی ڈر گی تھی جب اس نے اپنی ٹائٹس اتار دی.  تقریباً 9 انچ موٹا لنڈ جو سر ایک طرف پھینک کر سو رہا تھا۔  یہ اتنا بڑا  ہے یہاں تک کہ جب میرا شوہر مکمل طور پر کھڑا  ہوتا ہے تب بھی یہ زیادہ تھا۔
میں نے پوچھا- جب یہ  کھڑا ہو جاتا ہے تو کتنا بڑا ہوتا ہے؟
اس نے کہا - اسے اپنے ہاتھ میں پکڑو، اس سے کھیلو اور خود ہی دیکھ لو۔
میں نے اس کا لنڈ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اسے آگے پیچھے کرنے لگا، اس کی کالی ٹوپی نکال کر دیکھا۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا لنڈ بہت مضبوط تھا۔  میرے پورے جسم میں بہت حرکت تھی۔
تھوڑی دیر کھیلنے کے بعد، میں نے اس کے لنڈ کو چھوڑ دیا کیونکہ وہ بالکل کھڑا نہیں ہوا تھا۔
میں نے ارشد سے کہا - مجھے یہ پسند آیا، لیکن اب گھر واپس  چلو، ہم کسی اور دن پھر ملیں گے۔

میں گاڑی سے اتری تو ارشد بھی نیچے اترا اور بولا - کیا ہوا، اچھا نہیں لگا۔
میں نے کہا - مجھے یہ پسند آیا، لیکن میری چوت برداشت نہیں کر سکتی اتنا.

لیکن سچی بات تو یہ تھی کہ میں اس کے لنڈ کو چھونے سے ہی اتنی گرم ہو گی تھی کہ مجھے اب بھی سیکس کرنے کی خواہش ہو رہی تھی لیکن اب میں ایسا کیسے کرتا۔
ارشد بولا - ارے یہ جادو ہے، جب تم اس سے پیار کرو گی، وہ خود ہی کھڑا ہو جائے گا، پھر دیکھو۔
اس کے بعد ارشد نے مجھے بہت سمجھایا۔

ارشد کی باتیں سن کر اس نے کہا- یار، میں مر رہا ہوں، اب اس کے ساتھ جنسی تعلق کرنے کو دل کر رہا ہے۔  برائے مہربانی میری مدد کرو

ارشد بولا- مجھے معلوم تھا، تم اس کا لنڈ دیکھ کر پریشان ہو جاؤ گی، میں نے ہوٹل میں ایک کمرہ بک کروایا ہے، چلو وہاں چلتے ہیں، اور بھرپور مزہ لیتے ہیں!
میں نے کہا- یار، مجھے اسے چوسنے دو، میں صبر نہیں کر رہی ہوں!
اس نے کہا- وہ پہلے ہی کہہ چکا ہے جا کر اسے چوسو۔

میں دوبارہ گاڑی میں بیٹھ گی۔  وہ ابھی تک  بیٹھا اپنا لنڈ نکال رہا تھا۔  میں نے دوبارہ اس کا لنڈ اپنے ہاتھ میں پکڑا، پھر اس نے میرا سر پکڑ کر دبایا، میں نے اپنا منہ کھولا اور اس کا لنڈ اپنے منہ میں لے لیا۔  اس نے میرے ممے کو بھی اپنے ایک ہاتھ میں پکڑا اور آہستہ آہستہ دبانے لگا۔

کیا مزہ ہے، اتنا موٹا اور لمبا لنڈ، خواب جیسا۔  جیسے ہی میں چوستی گی اس کا لنڈ اکڑتا گیا۔  اور 2 منٹ کے بعد ایسا لگا جیسے میرے ہونٹ پھٹنے والے تھے، اتنا موٹا تھا کہ میرے منہ میں نہیں آ رہا تھا، اور لمبائی تقریباً 9 انچ ہو گی۔

ارشد نے گاڑی سٹارٹ کی اور ، میں بھی اس کا لنڈ چھوڑ کر ٹھیک ہو کر بیٹھ گی۔
میرے گال کو چھوتے ہوئے وہ بولا - کیا ہم کچھ کرنے جا رہے ہیں؟
میں نے کہا ہاں ہم ہوٹل جا رہے ہیں۔  آپ کا نام کیا ہے.
اس نے کہا - میرا نام اسلم ہے اور تمہارا؟
میں نے کہا- سما

کچھ دیر بعد ہم ایک ہوٹل کے باہر رک گئے۔  ہم تینوں گاڑی سے اتر کر ہوٹل کے اندر چلے گئے اور پھر ایک کمرے میں پہنچ گئے۔  اے سی پہلے سے چل رہا تھا۔  کمرہ ٹھیک تھا۔

جیسے ہی میں اندر داخل ہوئی، رچرڈ نے مجھے اپنی گود میں اٹھایا، بستر پر لے گیا، اور اپنے کپڑے اتارنے لگا۔  ایک منٹ میں وہ بالکل ننگا ہو گیا۔
کتنا شاندار جسم تھا وہاں۔  میں بس اسے دیکھتی رہی۔  چوڑے کندھے، پورا سینہ، موٹی اطراف، بہت پتلی کمر، چھوٹا پیٹ، اور نیچے موٹی رانیں اور ان دونوں رانوں کے درمیان اس کا لمبا کالا لنڈ جھول رہا تھا۔

میں اٹھ کر اس کے پاس آئی، میں نے اس کے جسم پر ہاتھ رکھا، بڑی محنت سے کام کرنے کے بعد  پٹھے بنے تھے، سینہ پتھر جیسا تھا۔  مضبوط لاٹھی، جسے میں نے چھوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے میں کسی لوہے کو چھو رہا ہوں۔

میں نے اس سے کہا- ، تمہارا جسم بہت خوبصورت ہے۔
اس نے کہا تمہارا جسم بھی بہت خوبصورت ہے۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا- اور تمہارا لنڈ بہت مضبوط ہے۔
میں نے اس کا لنڈ اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور اسے آہستہ سے سہلایا۔  اس کے لنڈ میں تناؤ بڑھنے لگا۔  گاڑی میں میں اس کا لنڈ منہ میں لے کر چوستے ہوۓ کھڑا ہو گیا تھا، لیکن اس بار مجھے اس کا لنڈ چوس کر اسے کھڑا نہیں کرنا پڑا، وہ خود ہی کھڑا ہو گیا۔

اسلم نے خود میری قمیض اتار دی، میری برا کے ہک کا بٹن کھول دیا، جسے میں نے اتارا، اور پھر اس نے میری پتلون اور ٹائٹس اتار دیں۔ میں بالکل بے شرمی، سے اسلم سے لپٹ گئی یہاں تک کہ یہ دیکھے بغیر کہ میرا سب سے اچھا دوست اور میرے شوہر کا سب سے اچھا دوست ارشد بھی وہیں کھڑا میری طرف دیکھ رہا ہے۔

سب سے پہلے ہم نے ایک دوسرے کو بوسہ دیا، ایک دوسرے کے ہونٹ بہت زیادہ چوسے، اسلم نے پھر میرے  گال، گلابی ہونٹ سب کو چوس لیا، میں نے بھی اس کے چہرے کو چوما اور چاٹا، اس کے چہرے کی خراب شکل کی پرواہ کیے بغیر۔  وہ مجھے اپنی بانہوں میں جکڑ کر کھڑا تھا اور اس کا موٹا سیاہ لمبا لنڈ میرے جگر کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔

میں نے ایک بار نیچے دیکھا، اس کا لنڈ بالکل میرے چھاتی کی طرف آرہا تھا۔  میں نے کہا- اسلم، جب آپ اسے اندر ڈالیں گے تو کیا یہ اندر سے بھی یہاں آئے گا؟
اس نے کہا- ہاں بچہ، یہ تمہارے پھیپھڑوں میں آئے گا۔
میں نے پکارا - ہائے، میں مر جاؤں گی۔۔
اس نے کہا- ڈرو مت، ایک 18 سال کی لڑکی  میری گرل فرینڈ نے اس لنڈ کو پوری طرح لے لیا ہے، میں نے اسکی گانڈ بھی ماری ہے، تمہیں کچھ نہیں ہوگا، ڈرو مت، مزے کرو۔

لیکن خوف میرے اندر بس گیا تھا۔  میں سوچنے لگی کہ اگر یہ میری گانڈ سے ٹکرائے تو میری گانڈ پھٹ جائے گی اور سب ایک ہو جائیں گے!
پھر بھی۔

اسلم نے مجھے بستر پر لٹا دیا اور سب سے پہلے میرے ننگے جسم کو چھوتے ہوئے، میرے گرد ہاتھ پھیرا۔
"آپ کا جسم بہت نرم ہے!"  اس نے کہا۔
میں مسکرائی - شکریہ، .

اس نے میرے دونوں بوبس کو اپنے ہاتھوں میں ہلکے سے پکڑا اور دونوں نپلز کو چوستے ہوئے دیکھا۔  اس نے سفید گلابی نپلوں کو بہت گہرے، موٹے اور بدصورت ہونٹوں کے ساتھ چوس لیا، لیکن مجھے اس کے موٹے موٹے ہونٹوں میں اپنے ننھے ننھے نپلوں کو چوسنے میں بہت مزہ آیا۔

میرا شوہر اکثر کاٹتا ہے لیکن اس نے مجھے دانتوں سے کاٹنے نہیں دیا بلکہ میرے مموں کو بھی بڑے کمال سے  چوسا اور دبایا۔  سب کچھ آسانی کے ساتھ کیا  جا رہا تھا۔  میرے مموں کو چوسنے کے بعد، اس نے میرے کندھے، بازو اور ہاتھ کو چوما، میری بغلوں کو  چوما۔  مجھے بہت گدگدی ہوئی۔

پھر اس نے میرے پیٹ کو بھی چوما، میری ناف کے نیچے میری شرونی کو اپنی کھردری زبان سے چاٹا اور میری کمر کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک چاٹا، میری رانوں کو سہلایا۔

وہ میرے dosry qist lany ka lane thora intxar tharkhy boy 03193701259

Comments